خلافت فقر محض ہے

​خلیفہ فنائے مطلق کا مظہر 

اللہ تعالٰی نے اپنے عظیم ترین خلیفہ کو مقام رسالت سے سرفراز فرمایا. رسالت فنائے مطلق اور مکمل طور پر اپنے وجود سے گزرنے، اپنی الگ اور امتیازی حیثیت کے مکمل خاتمے، سے عبارت ہے کیونکہ حضرت ختمی مرتبت ص کی رسالت مطلقہ اللَّه کی برزخی خلافت کبری ہے. یہ خلافت عبارت ہے ظہور، تجلی، تکوین اور تشریع کے میدانوں میں خلافت سے، اس خلیفہ کی اپنی الگ حیثیت نہیں ہو سکتی وگرنہ خلافت کا وجود خود مختار بن جائے گا جو کسی مخلوق کے لیے ممکن نہیں. 


خلافت فقر محض ہے

خلافت کی حقیقت خالص فقر و احتیاج سے عبارت ہے جس کی طرف رسول ص نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کے فقر میرے لیے باعث فخر ہے. (الفقر فقری وبہ افتخر) (فقر میرے لیے باعث فخر ہے اور میں اس پر فخر کرتا ہوں) 

کتاب بحار الانوار، ج 69


خلیفہ خود مختار نہیں ہوتا

عزائم میں نبی کی مدد رسانی آپ ص کی قطبیت اور خلافت کی بدولت ہے. یہ مدد اللَّه کے جود و کرم کا خزانہ ہے. پس خزانے اللَّه کے ہیں اور ان میں تصرف اس کا خلیفہ کرتا ہے. اس لیے فرمایا : خزانے اللَّه کے ہیں اور ان میں تصرف خلیفہ فرماتا ہے. خلیفہ اس ہستی کی ملکیت میں جس طرح چاہے تصرف کرتا ہے جس نے اسے خلیفہ بنایا ہے. البتہ یہ خلافت اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک حق تعالی اپنے اس بندے میں ہر قسم کا تصرف نہ کر لے. یہ تصرف اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک یہ بندہ افق فنا کی آخری حد کو چھو نہیں لیتا. پھر جب وہ ذات و صفات اور افعال کے لحاظ سے اپنے وجود سے گزر جاتا ہے تو اب کسی کا تصرف، متصرف(تصرف کرنے والا) اور متصرف فیہ(جس میں تصرف کیا جائے) باقی نہیں رہتا مگر اللَّه کی طرف سے، اللَّه کے لیے اور اللَّه کی راہ میں. پھر جب اللَّه بندے کو اس کی اپنی قلمرو میں واپس لاتا ہے تو اب بندہ اللَّه کے خزائن میں تصرف شروع کرتا ہے. یوں مجازات الہیہ کا وقوع عمل. میں آتا ہے. پس ایک لحاظ سے خزانے اللَّه کے ہیں اور تصرف بندے کا اور دوسرے لحاظ سے خزائن اور تصرف دونوں ہی اللَّه کے ہیں. تیسرے زاویے سے یہ دونوں بندے کے ہیں اور چوتھے زاویے سے تصرف اللَّه کا ہے اور خزائن بندے کے ہیں. 

ماخوذ از انسان کامل 

امام خمینی رح

تحریر الاحقر عادل عباس 

انصار سلیمان کا مظاہرہ قوت

​قرآن مجید بہت سے مواقع پر کرامات و معجزات کو ان کے حاملین کی طرف نسبت دیتا ہے. یہ اس لیے ہے کہ قرآن ان معجز نماؤں کے ارادہ و خواہش کو معجزات کے رونما ہونے کے بارے میں موثر جانتا ہے. قرآن ان. تمام کاموں کو توحید افعالی یا اس بات کے کہ تمام کام خدا وند تعالٰی کی قدرت و قوت سے انجام پاتے ہیں، منافی نہیں جانتا، کیونکہ اگر یہ حضرات اپنے حیرت انگیز اور خارق العادت کاموں میں ذمہ دار اور مستقل ہوتے اور مقام ایجاد میں اللہ تعالٰی کی قدرت سے بے نیاز ہوتے تو اس صورت میں توحید افعالی اور اس امر میں کہ کائنات میں اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں، تضاد پیدا ہو جاتا. لیکن اس کے برعکس اگر ان حضرات کے ایسے تمام افعال ایک ایسی قوت کے زیر اثر انجام پاتے ہیں جو پروردگار عالم نے ان کی بندگی واطاعت کے سایہ میں انہیں عطا فرمائی ہے تو یہ اعتقاد نہ صرف یہ کہ توحید افعالی کے ساتھ کسی طرح تضاد نہیں رکھتا بلکہ توحید افعالی کی اس کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں ہے. ہم اس سلسلے میں اب تصریحات قرآن پیش کرتے ہیں. 
سب جانتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سباہ کو اپنے حضور حاضر ہونے کا حکم دیا. لیکن اس سے ہیشتر کہ وہ آپ کے حضور پہنچتی، حضرت نے اپنے حاضرین مجلس سے فرمایا : 
“اے میرے درباریوں تم میں سے کون (بلقیس) کا تخت میرے سامنے (بلقیس مع اس کے ہمراہیوں کے) مطیعانہ وارد ہونے سے پہلے لاکر پیش کر سکتا ہے؟ ” (نمل، ٣٨)
حاضرین مجلس میں سے ایک نے کہا :
” اس سے پہلے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں (دربار برخواست) ہو میں اسے لے آؤں گا اور میں اس کام کی طاقت رکھتا ہوں اور امین بھی ہوں. ”

(نمل،٣٩)
ایک اور شخص نے جس کا نام مفسرین آصف برخیا بتاتے ہیں، جو حضرت سلیمان علیہ السلام کا وزیر اور ان کا بھانجا تھا، عرض کیا کہ دو چشم زدن میں اسے حاضر کر سکتا ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے :

” ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا یہ کہا کہ اس سے پہلے کہ آپ آنکھ چھپکیں میں اس (تخت) کو آپ کے دربار میں حاضر کرونگا. اچانک حضرت سلیمان علیہ السلام نے تخت کو اپنے سامنے حاضر پایا اور فرمایا کہ یہ فضل و نعمت مجھ پر میرے رب کی طرف سے ہے. ” (نمل، ٤٠)
ان آیات کے مطالب میں ہمیں غور کرنا چاہیے تاکہ  سمجھ سکیں کہ ان خارق العادۃ افعال کا عامل (تخت بلقیس کا حاضر کرنا) کیا ہے؟ کیا خارق العادۃ فعل کا فاعل براہ راست اللہ تعالی ہے اور وہی عالم طبیعی میں اس تحرک کو انجام دیتا ہے جبکہ آصف برخیا اور دوسرے افراد صرف دیکھنے والے ہیں اور ان کاموں میں کوئی معمولی سا دخل  بھی نہیں رکھتے؟ یا اس طرح ہے کہ ان کاموں کے کرنے والے دوسرے لاکھوں کاموں کی  طرح جنھیں عام انسان اللہ تعالٰی کی قدرت سے انجام دیتے ہیں،  خود وہی انسان ہیں، کیا حقیقت یہ تو نہیں کہ یہ حضرات اس قوت کو اللہ تعالٰی کے تقرب کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اور خود اپنے ارادہ سے اس قسم کے خارق العادۃ کے عامل ہوتے ہیں؟ تینوں آیات بظاہر موخر الذکر نظریہ کی تائید کرتی ہیں. کیونکہ 
اولا: حضرت سلیمان علیہ السلام ان لوگوں سے یہ کام کروانا چاہتے ہیں اور ان کو اس کام پر قادر جانتے ہیں. 
ثانیاً : جس شخص نے کہا تھا کہ میں تخت بلقیس کو دربار کے برخواست ہونے سے پہلے لے آؤں گا، وہ اس جملہ میں اپنی توصیف بیان کرتا ہے کہ وانی علیہ لقوی امین یعنی میں اس کام کو کر سکتا ہوں، اس کی قوت رکھتا ہوں اور اپنے بارے میں مطمئن ہوں. اگر اس شخص کا وجود و ارادہ اس کام کے لیے کافی نہ ہو اور اس کی حیثیت تھیئٹر کے اداکار کی مانند ہو تو پھر یہ کہنے کی کہ میں اس کام کو کر سکتا ہوں اور امین ہوں، کوئی وجہ نظر نہیں آتی. 
ثالثا: دوسرے شخص نے کہا کہ میں اسے بہت تھوڑی دیر میں (پلک جھپکتے ہی) لے آؤں گا بلکہ اس خارق العادۃ کام کو اپنی طرف نسبت دے کر کہتا ہے : اتیک لے آتا ہوں. ”

اگر ضروری ہوتا کہ قرآن مجید اس حقیقت کی وضاحت کرے کہ اولیاء کے نفوس پر ان کے ارادے و خواہشات، معجزات و کرامات اور خارق العادۃ افعال پیش کرنے کے سلسلے میں دیگر شخصیات اثر رکھتی ہیں تو اس سے زیادہ واضح کون سے الفاظ ہو سکتے ہیں تاکہ اس زمانہ کے شاکی لوگ ان کو تسلیم کر لیں اور تاویلات میں نہ پڑتے پھریں. 
رابعاً:  خداوند عالم دوسرے شخص کی حیرت انگیز توانائی کا سبب اس کی علم کتاب سے واقفیت کو قرار دیتا ہے. یہ وہ علم و حکمت ہے جو عام آدمی کے دائرہ اختیار سے قطعی باہر ہے. یہ علم ان علوم سے ہے جو بعض بندگان خدا کے لیے ہوتے ہیں. ان علوم سے واقفیت اس قرب الہی کی مرہون منت ہوتی ہے جو اس قسم کے بزرگ حضرات کو اللہ تعالٰی سے حاصل ہوتا ہے. جیسا کہ فرماتا ہے :

قال الذی عندہ علم من الکتاب 


تحریر ال احقر عادل عباس

نقل از قران کا دائمی منشور

Worship of Freemen in the eyes of Imam Khomeini 

إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنْ الْمُتَّقِينَ.

Verily God accepts only from the God-fearing. (5:27)

One of the major factor in the rightness and perfection of actions which, in fact, is tantamount to their efficient force (in the same way as the awe and taqwa acquired from them is equivalent to the condition of their effectiveness and which, in fact, purify the receptor and remove the impediments). It is sincere intention and pure purpose on which depend the perfection and defectiveness of ‘ibadat (worships) and their validity and invalidity.
As much as the ‘ibadat are free from association with non-God and from adulteration of intention, to the same extent they are sincere and perfect. And nothing is as important in ‘ibadat as intention and its purity, for the relationship of intention to ‘ibadah is like that of the soul to the body and the spirit to the corporeal frame.
In the same way as their physical form originates in the physical aspect of the self and its body, intention and their spirit originate from the self’s inward aspect and the heart. No worship is acceptable to God Almighty without sincere intention and unless it is free from the outward mulki riya’ (a kind of riya’ which the fuqaha’ (R) have mentioned) and shirk, which invalidate and nullify the outward parts (of an ibadah).
And unless it is free from inward shirk, in whose presence although an ‘ibadah may be correct from the exoteric aspect of the Shari’ah and fiqhi ordinances, it is not valid and acceptable to God Almighty from the esoteric aspect and from the viewpoint of the reality and secrets of worship. Hence there is no necessary relation between the (legal) validity of ‘ibadah and its acceptability, a point which has often been mentioned in the traditions.
An exhaustive definition of ‘shirk in ‘ibadah’ that encompasses all its levels is the inclusion of the good pleasure and satisfaction of anyone other than God, whether it is one’s own self or someone else.’ If it is for someone else’s satisfaction and for other people, it is outward shirk and fiqhi riya’. If it is for one’s own satisfaction (rida), it is hidden and inward shirk; this also invalidates the ‘ibadah in view of the urafa and makes it unacceptable to God. Examples of it are offering the nightly prayer for increase in one’s livelihood, giving sadaqah for safety from afflictions, or giving zakat for increase in one’s wealth; that is, when one does these things for God Almighty in order to seek these things from His grace.
Although those ‘ibadat are valid, and one who performs them is considered to have performed his duty and fulfilled the requirements of the Shari’ah, they do not amount to the worship of God Almighty, nor are they characterized with sincerity of intention and purity of purpose. Rather, this kind of ‘ibadat are aimed to achieve mundane purposes and to seek the objects of carnal, mundane desires. Hence, the acts of such a person are not rightful.
Similarly, if ‘ibadah is for the sake of the fear of hell and yearning for paradise, it is not sincerely for God and is devoid of sincere intention. Rather, it may be said that such acts of worship are purely for the sake of Satan and the carnal self. The good pleasure of God does not enter the intentions of a person performing such a kind of ibadah in order to be considered even shirk.
Rather he has worshipped solely the great idol, the mother of all idols, the idol of one’s carnal desire. However, God Almighty has accepted this kind of ibadah from us out of His expansive mercy and on account of our weakness, by allowing a degree of leniency; that is, He has bestowed upon it certain effects and attached certain favors to it so that if man should fulfill the outward conditions of its acceptance, and perform it with the presence of the heart, all those effects will follow and all the related promises of reward shall be carried out.
Such is the condition of the ‘ibadat of the slaves and mercenaries. But as to the ‘ibadah of free men (ahrar), performed for the love of God Almighty and to seek the attention given by that Sacred Essence to Its worshippers, the motive of fear of hell and yearning for paradise being absent in it, it is the first station of the awliya’ and ahrar.

Imam Khomeini’s advice about Backbiting 

​Imam Khomeini’s guidance to those who Backbite their Fellow brothers in faith 
My dear, be friendly to the servants of God who enjoy His mercy and bounty and who have been adorned with the robes of Islam and iman, and cultivate a heart-felt affection for them. Beware lest you feel enmity towards the beloved of God, for God Almighty is the enemy of the enemies of His beloved one and He will throw you out of the gardens of His mercy. The elect of God are hidden amongst His servants and who knows if this enmity on your part and your violation of the honor of this man of faith (mu’min) and your divulging of his defects will not be considered an offence against Divine honor?
The mu’minun are the awliya’ (friends) of God. Their friendship is the friendship of God; their enmity is the enmity of God. Beware of the wrath of God and the enmity of the intercessors on the Day of Judgment:
وَيْلٌ لِمَنْ شُفَعَاؤُهُ خُصَمَاؤُهُ.

Woe to him whose intercessors [i.e. those who were supposed to intercede in his favor] are his enemies.

तक़य्या का मक़सद

तक़य्या का मक़सद क्या है?

तक़य्या एक दिफ़ाई(बचाव) ढाल
यह सही है कि इन्सान कभी बुलंद मक़सदों, शराफ़त के बचाने, और हक़ की ताक़त और बातिल को मिटाने के लिए अपनी अज़ीज़ जान क़ुरबान कर सकता है, लेकिन क्या कोई अक़्ल वाला यह कह सकता है कि इन्सान के लिए बग़ैर किसी ख़ास मक़सद के अपनी जान को ख़तरे में डालना जाएज़ है?!
इस्लाम ने साफ़ तौर पर इस बात की इजाज़त दी है कि अगर इन्सान की जान, माल और इज़्ज़त ख़तरे में हो और हक़ के इज़हार से कोई ख़ास फ़ायदा ना हो, तो वक़्ती तौर पर हक़ का इज़हार ना करे बल्कि छुपे तरीक़ों से अपनी ज़िम्मेदारी को पूरा करता रहे, जैसा कि क़ुरआन मजीद के सूरह आले इमरान की आयत नम्बर 28 इस बात की निशानदेही करती है (1) या दूसरे शब्दों में सूरह नहल में इरशाद होता है :
( ﻣَﻦْ ﮐَﻔَﺮَ ﺑِﺎﷲِ ﻣِﻦْ ﺑَﻌْﺪِ ِﯾﻤَﺎﻧِﮧِ ِﻻَّ ﻣَﻦْ ُﮐْﺮِﮦَ ﻭَﻗَﻠْﺒُﮧُ ﻣُﻄْﻤَﺌِﻦّ ﺑِﺎﻟِْﯿﻤَﺎﻥ ) ( ٢ )
जो शख़्स भी अल्लाह पर इमान लाने के बाद कुफ़्र अपना ले सिवाय उसके जो कुफ़्र पर मजबूर कर दिया जाए और उसका दिल इमान की तरफ़ से इत्मिनान में हो। (2)
(2) सूरह नहल, आयत 106

] ١ )] ﻻَﯾَﺘَّﺨِﺬْ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨُﻮﻥَ ﺍﻟْﮑَﺎﻓِﺮِﯾﻦَ َﻭْﻟِﯿَﺎﺉَ ﻣِﻦْ ﺩُﻭﻥِ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﯿﻦَ ﻭَﻣَﻦْ ﯾَﻔْﻌَﻞْ ﺫَﻟِﮏَ ﻓَﻠَﯿْﺲَ ﻣِﻦْ ﺍﷲِ ﻓِﯽ ﺷَﯿْﺊٍ ِﻻَّ َﻥْ ﺗَﺘَّﻘُﻮﺍ ﻣِﻨْﮩُﻢْ ﺗُﻘَﺎﺓً … )
ख़बरदार साहिबाने इमान, मोमिनीन को छोड़कर कुफ़्फ़ार को अपना वली व सरपरस्त ना बनाएं कि जो भी ऐसा करेगा उसका ख़ुदा से कोई रिश्ता ना होगा मगर यह तुम्हें कुफ़्फ़ार से खौफ़ हो तो कोई हर्ज भी नहीं है”।(1)
सूरह आले इमरान, आयत 28

हदीस और इतिहास की किताबों में जनाब “अम्मार यासिर” और उन के मां बाप का वाक़िआ सब कुछ सामने है, जो मुशरिकीन और बुत परसतों को हाथों क़ैद हो गए थे, उन को सख़्त तकलीफें पहुंचाई गई थीं ताकि इस्लाम से दूरी बनाए, लेकिन जनाब अम्मार के मां बाप ने ऐसा नहीं किया जिस की बिना पर मुशरिकीन ने उनको क़त्ल करो दिया, लेकिन जनाब अम्मार ने उनकी मर्ज़ी के मुताबिक़ अपनी ज़ुबान से सब कुछ कह दिया, और ख़ौफ़े ख़ुदा की वजह से रोते हुए पैग़म्बर अकरम की ख़िदमत में हाज़िर हुए, [वाक़िआ बयान किया] तो रसूल अकरम ने उनसे फ़रमाया : अगर फिर कभी ऐसा वाक़िआ पेश आए तो जो तुम से कहलाएं कह देना, और इस तरह रसूल अकरम ने उनके ख़ौफ़ व परेशानी को दूर कर दिया।
ज़्यादा ध्यान देने के क़ाबिल एक दूसरी बात यह है कि तक़य्या का हुक्म सब जगह एक नहीं है बल्कि कभी वाजिब, कभी हराम और कभी मुबाह होता है।

तक़य्या करना उस वक़्त वाजिब है जब बिना किसी अहम फ़ायदे के इन्सान की जान ख़तरे में हो, लेकिन अगर तक़य्या बातिल की तरवीज, लोगों की गुमराही और ज़ुल्म व सितम की मज़बूती की वजह बन रहा हो तो इस सूरत में हराम और मना है।

इस लिहाज़ से तक़य्या पर होने वाले एतराज़ों का जवाब साफ़ हो जाता है, दरअस्ल अगर तक़य्या पर एतराज़ करने वाले तहक़ीक़(रिसर्च) व कोशिश करते तो उनको मालूम हो जाता कि यह अक़ीदा सिर्फ़ शियों का नहीं है बल्कि तक़य्या का मसला अपनी जगह पर अक़्ल के हुक्म और इन्सानी फ़ितरत के मुताबिक़ है। (1)
किताब : अाईने मा, पेज : 364 (1)

क्योंकि दुनियाभर के सारे अक़्ल व समझ रखने वाले जिस वक़्त एक ऐसी जगह पहुंचते हैं जहां से दो रास्ते हों या तो अपने अन्दर के अक़ीदे के इज़हार नहीं करते या अपने अक़ीदे का इज़हार करके अपनी जान और माल और इज़्ज़त को ख़तरे में डाल दें, तो ऐसे मौक़े पर इन्सान तहक़ीक़ करता है कि अगर इस अक़ीदे के इज़हार से उसकी जान व माल और इज़्ज़त की क़ुरबानी की कोई अहमियत और फ़ायदा है तो ऐसे मौक़े पर फ़िदाकारी और क़ुरबानी को सही मानते हैं और अगर देखते हैं कि इसका कोई ख़ास फ़ायदा नहीं है तो अपने अक़ीदे का इज़हार नही करते हैं।

तक़य्या या मुक़ाबला की दूसरी सूरत
मज़हबी, इजतेमाई और सियासी मुबारिज़ात(लड़ाइयां) और तहरीक की तारीख़ में यह बात देखने में आती है कि जब एक मक़सद का दिफ़ा(बचाव) करने वाले अगर खुल्लम खुल्ला जंग या मुक़ाबला करें तो वह ख़ुद भी तबाह बर्बाद हो जाएँगे और उनके मक़सद भी ख़ाक में मिल जाएँगे या कम से कम उनके सामने बहुत बड़ा ख़तरा होगा जैसा कि ग़ासिब हुकूमत “बनी उमैय्या” के ज़माने में हज़रत अली (अस) के शियों ने ऐसा ही किरदार अदा किया था, ऐसे मौक़े पर सही और अक़्ली काम यह है कि अपनी ताक़त को यूंही ना जाने दें और अपने अग़राज़ व मक़सदों को आगे बढ़ाने के लिए ग़ैर-मुसतक़ीम(जो सीधा ना हो) और छुपे तरीक़े से अपने काम व तहरीक (मूवमेंट) जारी रखें, दरअस्ल तक़य्या इस तरह के मकातिब और उन के पैरोकारों के लिए ऐसे मौक़े पर जंग व मुबारज़ा की एक दूसरी शक्ल शुमार होता है जो उनको बर्बादी से निजात देता है और वह अपने मक़सदों में कामयाब हो जाते हैं, तक़य्या को ना मानने वाले लोग नहीं मालूम इस तरह के मौक़े पर क्या नज़रिया रखते हैं? क्या उन का नाबूद होना सही है या सही और मनतिक़ी(लौजिकल) तरीक़े पर इस मुबारज़े को जारी रखना? इसी दूसरे रास्ते को तक़य्या कहते हैं जबकि कोई भी अक़्ल वाला अपने लिए पहले रास्ते को पसन्द नहीं करता। (1)
तफ़सीरे नमूना, जिल्द 2, पेज 373(1)

हक़ीक़ी मुसलमान, और पैग़म्बर इस्लाम का तरबियत याफ़्ता इन्सान दुश्मन से मुक़ाबले का अजीब हौसला रखता है, और उनमें से कुछ “अम्मार यासिर के बाप” की तरह दुश्मन के दबाव पर भी अपनी ज़ुबान से कुछ कहने के लिए तैयार नहीं होते, अगर से उनका दिल इश्क़ ए ख़ुदा व रसूल से भरा होता है, यहां तक कि वह इस रास्ते में अपनी जान भी क़ुरबान कर देते हैं। उनमे से कुछ “अम्मार यासिर” की तरह अपनी ज़ुबान से दुश्मन की बात कहने के लिए तैयार हो जाते हैं लेकिन फिर भी उन पर खौफ़ ए ख़ुदा तारी होता है, और ख़ुद को ख़ताकार और गुनाहगार तसव्वुर करते हैं, जब तक ख़ुद पैग़म्बर इस्लाम (सअ) इत्मिनान नहीं दिला देते कि उनका यह काम अपनी जान बचाने के लिए शरई तौर पर जाएज़ है; इस वक़्त तक उनको सुकून नहीं मिलता!
जनाब “बिलाल” के हालात में हैं पढ़ते हैं कि जिस वक़्त वह इस्लाम लाए और जब इस्लाम और पैग़म्बर अकरम की हिमायत में दिफ़ा के लिए उठे तो मुशरिकीन ने बहुत ज़्यादा दबाव डाला, यहाँ तक कि उनको तेज़ धूप में घसीटते हुए ले जाते थे और उन के सीने पर एक बड़ा पत्थर रख देते थे और उनसे कहते थे : तुम्हे हमारी तरह मुशरिक रहना होगा।
लेकिन जनाब बिलाल इस बात पर आमादा नहीं होते थे हालाँकि उन की साँस लबों पर आ चुकी थी लेकिन उनकी ज़ुबान पर यही कलिमा था : “अहद, अहद” (यानी अल्लाह एक है, अल्लाह एक है) उसके बाद कहते थे : ख़ुदा की क़सम अगर मुझे मालूम होता कि इस कलाम से नागवारतर तुम्हारे लिए कोई और लफ्ज़ है तो मै वही कहता! (1)
तफ़सीर फ़ी ज़िलाल, जिल्द 5, पेज 284 (1)

इसी तरह “हबीब बिन ज़ैद” के हालात में मिलता है कि जिस वक़्त “मुसैलिमा कज़्ज़ाब” ने उन को गिरफ़्तार कर लिया और उनसे पूछा कि क्या तू गवाही देता है कि मुहम्मद (सअ) रसूल ख़ुदा हैं? तो उसने कहा : जी हाँ!
फिर सवाल किया कि क्या तू गवाही देता है कि मैं ख़ुदा का रसूल हूँ? तो हबीब ने उसकी बात का मज़ाक़ उड़ाते हुए कहा कि मैंने तेरी बात को नहीं सुना! यह सुन कर मुसैलिमा और उसके पैरोकारों ने उनके बदन को टुकड़े टुकड़े कर दिया, लेकिन वह पहाड़ की तरह साबित क़दम रहे। (1)
तफ़सीर फ़ी ज़िलाल, जिल्द 5, पेज 284 (1)

इस तरह के दिल हिला देने वाले वाक़िआत तारीखें इस्लाम में बहुत मिलते हैं ख़ासकर सद्रे इस्लाम के मुसलमानों और आइम्मा (अस) के पैरोकारों में बहुत से ऐसे वाक़िआत मौजूद हैं।
इसी बिना पर मुहक़क़िक़ीन(रिसर्चरों) का कहना है कि ऐसे मौक़ों पर तक़य्या ना करना और दुश्मन के मुक़ाबिल तसलीम ना होना जाएज़ है अगर से उनकी जान ही चली जाए क्योंकि ऐसे मौक़ों पर, परचम ए इस्लाम और कलिमा ए इस्लाम की सरफ़राज़ी मक़सद है, ख़ासकर पैग़म्बर अकरम (सअ) की बेसत के आग़ाज़ में इस मसले की ख़ास अहमियत थी।
लिहाज़ा इस में कोई शक नहीं है कि इस तरह के मौक़ों पर तक़य्या भी जाएज़ है और इन से ज़्यादा ख़तरनाक मौक़ों पर वाजिब है, और कुछ जाहिल और नादान लोगों के ख़िलाफ़ तक़य्या (हालांकि ख़ास मौक़ों पर ना कि सब जगह) ना तो इमान की कमज़ोरी का नाम है और ना दुश्मन के ज़्यादा होने से घबराने का नाम है और ना ही दुश्मन के दबाव में तसलीम होना है बल्कि तक़य्या इन्सान की हिफ़ाज़त करता है और मोमिनीन की ज़िन्दगी को छोटे और कम अहमियत वाली बातों के लिए बर्बाद होने नहीं देता।

यह बात पूरी दुनिया में राएज है कि मुजाहिदीन और जंगजू लोगों की अक़लियत(कम लोग); ज़ालिम व जाबिर(कठोर) अकसरियत(ज़्यादा लोग) का तख़्ता पलटने के लिए आम तौर पर ख़ुफ़िया तरीक़े पर अमल करती है, और अंडर ग्राउंड कुछ लोगों को तैयार किया जाता है और छुपे तौर पर मंसूबा बंदी होती है, कुछ वक़्त किसी दूसरे लिबास में ज़ाहिर होते हैं, और अगर किसी मौक़े पर गिरफ़्तार भी होते हैं तो उनकी अपनी गिरोह के रहस्य को छुपाने की पूरी कोशिश होती है, ताकि उनकी ताक़त फ़िज़ूल नीस्त व नाबूद ना होने पाए, और भविष्य के लिए उसको बचाया जा सके।

अक़्ल इस बात की इजाज़त नहीं देती कि मुजाहिदीन की एक अक़लियत अपने को ज़ाहिरी और खुल्लम खुल्ला पहचनवाए, और अगर ऐसा किया तो दुश्मन पहचान लेगा और बहुत ही आसानी से उनको नीस्त व नाबूद कर दिया जाएगा।
इसी दलील की बिना पर “तक़य्या” इस्लामी क़ानून से पहले तमाम इन्सानों के लिए एक अक़्ली और मनतिक़ी तरीक़ा है जिस पर ताक़तवर दुश्मन के मुक़ाबले के ज़माने में अमल होता चला आया है और आज भी इस पर अमल होता है।

इस्लामी रिवायात में तक़य्या को एक दिफ़ाई ढाल से तश्बीह दी गई है। हज़रत इमाम सादिक़ (अस) फ़रमाते हैं :
” ﺍﻟﺘﻘﯿﺔ ﺗﺮﺱ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﻭﺍﻟﺘﻘﯿﺔ ﺣﺮﺯ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ )” ١ )
“तक़य्या मोमिन के लिए ढाल है, और तक़य्या मोमिन की हिफ़ाज़त की चीज़ है।” (1)
(इस बात पर तवज्जो रहे कि यहाँ तक़य्या को ढाल की तरह बताया गया है और यह मालूम है कि ढाल को सिर्फ़ जंग के मैदान में इस्तेमाल किया जाता है)

और अगर हम यह देखते हैं कि अहादीस इस्लामी में तक़य्या को दीन की निशानी और ईमान की निशानी क़रार दिया गया है और दीन के दस हिस्सों में से नौ हिस्सा शुमार किया गया है, उसकी वजह यही है।
हालाँकि तक़य्या के सिलसिले में बहुत ज़्यादा लम्बी बहस है जिस का यह मौक़ा नहीं है, हमारा मक़सद यह था कि तक़य्या के सिलसिले में एतराज़ करने वालों की जिहालत और नाअगाही मालूम हो जाए कि वह तक़य्या की शर्तों और फ़लसफ़े से जाहिल हैं, बेशक बहुत से ऐसे मौक़े हैं जहाँ तक़य्या करना हराम है, और वह उसे मौक़े पर जहाँ इन्सान की जान की हिफ़ाज़त के बजाय मज़हब के लिए ख़तरा हो या किसी अज़ीम फ़साद का ख़तरा, लिहाज़ा ऐसे मौकों पर तक़य्या नहीं करना चाहिए उसका नतीजा जो भी हो क़ुबूल करना चाहिए। (2)
(1) वसाएल उश्शिया, जिल्द, 11,हदीस 6, बाब 24 अम्र बिल माअरूफ़
(2) तफ़सीर नमूना, जिल्द 11, पेज 423

~~~~~~~~~~~~~~~
आयतुल्लाह नासिर मकारिम शिराज़ी
~~~~~~~~~~~~~~~~
अनुवादक : अादिल अब्बास
~~~~~~~~~~~~~~~~

बिदअत क्या है?

दीन में बिदअत एजाद करना : एक ऐसी चीज़ को दीन से निसबत देना जो हक़ीक़त में दीन का हिस्सा ना हो, यह गुनाहे कबीरा है और इस के हराम होने में किसी क़िस्म का शक व शुब्ह नहीं है। पैग़म्बर ए इस्लाम (स) ने फ़रमाया : एक ऐसी चीज़ को एजाद करना जो पहले से दीन में ना हो बिदअत है और हर बिदअत गुमराही है और हर गुमराही आग में है। (1)

दीन मे ताज़ा और पहले से ना होने वाले अम्र का मतलब यह है कि वह अम्र इस्लाम के क़वानीन व क़वायद व ज़वाबित के मुवाफिक ना हो, बस इस्लाम के कुल्ली क़वायद व ज़वाबित की नए मसाएल व मौज़ुआत से मैच करना बिदअत नही है। (2)

बिदअत, यानी किसी चीज़ को दीन के उनवान से पेश करना जबकि वह चीज़ दीन के किसी भी अहकाम और क़वायद से मुवाफ़िक ना हो, मसाएल के सिलसिले में एक अहम मतलब हासिल होता है और वह मतलब यह है कि बातिल को कभी अपने अस्ली और हक़ीक़ी रूप में कामयाबी हासिल नहीं होती है, क्योंकि वह अन्दर से खोखला होता है, इस लिए इसको अपनी तरफ़ तवज्जो मबज़ूल कराने के लिए हक़ीक़त नुमा बहरूप ज़ाहिर करना पड़ता है। क्योंकि तमाम इन्सान, बल्कि तमाम मख़लूक़ात हक़ीक़त के तालिब हैं और पूरी तारीख में बातिल की सरगर्मियों का एक अहम मैदान सक़ाफ़ती मैदान रहा है ताकि इस तरीके से अपनी बद नुमा सूरत को ख़ूबसूरत और हक़ीक़ी जैसा पेश करे।

क़ुरआन मजीद ने बातिल के इस हरबे के बारे मे बीस से ज्यादा मवाक़े पर तज़ीन (ख़ूबसूरत बन कर पेश होने) की ताबीर बयान की है, मसलन इरशाद है : “शैतान इन के आमाल को इन की नज़र में ख़ूबसूरत दिखाता है” (3) या फ़रमाया है “क्या जिस के लिए उस का बुरा अमल आरास्ता होकर उसे ख़ूबसूरत रूप में दिखाई देता है(उस के मानिन्द है जो हक़ीक़त को अपने अस्ली और हक़ीक़ी रूप में पाता है)?(4)
इसी वजह से ज़ालिम हुक्काम और सामराजी ताकतों ने पूरी तारीख में बल्कि आज तक इसी हरबे से काम लिया है और नये दीन एजाद किये हैं, नये नये मज़ाहिब और गूनागूं अक़ीदे वुजूद में लाते रहे हैं ताकि इस तरह अदयान ए इलाही से मुक़ाबला करके हक़ को चैलेंज कर सकें।

लेकिन दुश्मन की मुखतलिफ तबलीग़ाती रविशों की तहक़ीक़ करना और बाज़ाहिर ख़ूबसूरत चेहरों मे से बातिल के मक़फ़ी और पुर फ़रेब चेहरे से नक़ाब उठाना आसान नही है और वही लोग यह काम अन्जाम दे सकते हैं जो बुलन्द इल्मी वे फ़िक्री तवानाई के मालिक हूँ, शायद इस्लाम में उलेमा की हम नशीनी की ताकीद का फ़लसफ़ा यही है। (5)
कि हक़ीक़ी दानिशवरों से राब्ता बरक़रार रखने से इन्सान इनहिराफ़ के ख़तरे से बच सकता है।

मुखतसर यह है कि हमें होशियार रहना चाहिए ताकि बाज़ाहिर आरास्ता और एक सादा पार्टी या गिरोह धोका ना दे सके बल्कि हमें उन के ख़ूबसूरत रूप में मक़फ़ी सियासी, इजतेमाइ और सक़ाफ़ती मक़ासिद को मद्दे नज़र रखना चाहिए, इस दावे की सदाक़त के बेहतरीन गवाह उन दस्तावेज़ और मदारिक का इन्किशाफ़ है यह माजरा ज़ाहिर होता है कि सामराजी ताकतें छुपि हुइ और एेलानया सूरत में इस क़िस्म के गिरोह और पार्टियां बनाती हैं और इन्हें ताक़त बख़श्ती हैं।

एक नुक्ता यह है कि इनहिराफ़ की कभी उस के शुरूआती दौर में तहक़ीक़ नहीं की जानी चाहिए बल्कि उस इनहिराफ़ के जारी रहने के सिलसिले में उस के मुसतक़बिल पर नज़र डालनी चाहिए जिस तरह जियोमेटरी के मसाएल में ज़ाविये का फ़ासला शुरू में बिल्कुल क़ाबिल तवज्जो नहीं होता है, लेकिन जब यही ज़ाविया आगे बढ़ता है तो वही नामहसूस फ़ासला सैंकड़ों बल्कि हज़ारों किलोमीटर में तब्दील हो जाता है।

यहीं से रिवायती फिक़्ह के फ़लसफ़े और राज़ को समझा जा सकता है, जो दीनी हौज़ों में राएज है और मराजए तक़लीद की इताअत की ज़रूरत को समझा जा सकता है कि यह कि इस रविश की आइम्मा ए अतहार (अ) ने किस लिए ताकीद की है। (6), वह फ़लसफ़ा भी मालूम हो जाता है। दीनी किताबों के हक़ाएक़ को समझने के लिए यह रविश मुसतहकम तरीन अक़ली रविश है (7)।
बहर हाल दीन में बिदअत का फैलाना सियासी, इजतेमाई, और सक़ाफ़ती बुराईयों के असरात फैलने का सबब बन जाता है और यह दीन को मुआशरे में ख़राब करने का अहम तरीन आमिल है। शायद इन ही वुजूहात की बिना पर पैग़म्बर ए अकरम (स) ने मस्जिद ए ज़रार को मुनहदिम करने का हुक्म दिया था (8) क्योंकि क़ुरआन मजीद ने इस सिलसिले में फ़रमाया है : “और जिन लोगों ने मस्जिद(ज़रार) बनाई कि इस के जरिये इस्लाम को नुक़सान पहुंचायें और कुफ़्र को तक़वियत बख़्शे और मोमीनीन के दरमियान इख़्तिलाफ़ पैदा करायें और पहले से ख़ुदा वे रसूल से जंग करने वालों के लिए पनाह गाह तैयार करें वह भी मुनाफ़िक़ीन हैं और यह क़सम खाते हैं कि हम ने सिर्फ़ नेकी के लिए मस्जिद बनाई है हालांकि यह ख़ुदा गवाही देता है कि यह सब झूठे हैं। (9)
_____________________________

1: बिहार उल अनवार, जिल्द २, पेज सं० 263,
मुसनद अहमद, जिल्द 4, पेज सं० 126
2: मनशूरे अक़ायद, आयतुल्लाह जाफ़र सुबहानी, पेज 219
3: सूरह नहल, आयत 24
4: सूरह फ़ातिर, आयत 08
5: अल काफ़ी, जिल्द 1, बाब मजालिस उल उलेमा व सोहबत
6: वसाएल उस शिया, जिल्द 18, पेज 19 (इमाम सादिक़ (अ) से रिवायत है कि “जो शख़्स हमारे अहादीस को नक़्ल करता है, और हमारे बयान किये हलाल वे हराम का इल्म हासिल करके पहचान लेता है, ऐसे शख्स को मैने हाकिम मुक़रर किया है।
शेख़ सुदूक़, इकमालुद्दीन व तमाम उन नेमा, जिल्द 2, पेज 844 में इमामे अस्र (अज) से रिवायत करते हैं रूनुमा होने हवादिस के बारे में हमारी अहादीस के रावियों की तरफ़ रुजू करो कि वह आप पर मेरी हुज्जत हैं और मैं ख़ुदा की हुज्जत हूँ।
7: ज़्यादा मालूमात के लिए उसूल फ़िक्ह और फ़िक्ह की किताबों की तरफ़ रुजू करें।
8: सीरए इब्ने हिशाम, जिल्द 2, पेज 530, बिहार उल अनवार, जिल्द 20, पेज 253
9: सूरह तौबा, आयत 107

توحید در عبادت : کیا غیر طبعی اسباب سے فائدہ اٹھانا شرک ہے؟

n2638741-3759281مادی اور طبیعی اسباب سے فائدہ اٹھانا تو کسی بھی ملت اور کسی بھی گروہ کے درمیان شرک نہیں ہے اور انسانوں کی زندگی کی اساس و بنیاد کو ایسے عوامل ہی تشکیل دیتے ہیں لیکن وہابی حضرات غیر طبیعی اور غیر مادی اسباب سے تمسک کو ایک قسم کا شرک قیال کرتے ہیں، انہوں نے یہ تصور کر لیا ہے کہ ان کی تاثیر کا اعتقاد رکھنے سے ان کی الوہیت کا اعتقاد لازم آتا ہے اور اس قسم کے اعتقاد کے ساتھ ان سے درخواست کرنا اور انہیں پکارنا ان کی عبادت و پرستش ہے.

ابوالاعلیٰ مودودی اپنی کتاب المصطلحات الاربعہ(١) مصر میں لکھتا ہے :

جس وقت انسان کو پیاس لگتی ہے اگر وہ اپنے خادم کو پکارے اور اسے یہ حکم دے کہ وہ پانی لے آئے، اس کہنے کو دعا نہیں کہا جا سکتا. اسی طرح یہ بھی نہیں کہتے کہ اس نے اپنے خادم کو خدا بنا لیا ہے، کیونکہ وہ اپنے مطلوب کو علل و اسباب طبیعی کے ساتھ طلب کر رہا ہے لیکن اگر یہ شخص اولیاء میں سے کسی ولی کی پناہ لے اور اس سے درخواست کرے کہ وہ اس کی گرفتاری اور مصیبت کو برطرف کرے، تو اس نے اسے اپنا “الہ” بنا لیا ہے گویا اسے سننے والا اور دیکھنے والا سمجھ لیا ہے اور وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے لیے عالم اسباب پر ایک قسم کا تسلط ہے. جو اسے توانا بناتا ہے کہ وہ اسے پانی پہنچائے یا بیماری سے شفا بخشے، خلاصہ یہ ہے کہ انسان کے خدا کو پکارنے اور اس سے استغاثہ کرنے کی علت یہ ہے کہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ایسے تسلط کا حامل ہے جو قوانین طبیعت اور قوی پر، جو مادی قوانین کے نفوذ کی حدود سے باہر ہیں حاکم ہے.

اس مولف کے بارے میں جو کئی علل و اسباب کی بنا پر وہابیوں کے نظریہ کے زیراثر قرار پایا ہے، دو موارد میں گفتگو ہے.

١: جب کسی شخص کی نظر میں کسی چیز کے دو اسباب ہوں ایک طبیعی اور دوسرا غیر طبیعی اور وہ شخص علت طبیعی سے ناامیدی کے بعد اپنے ہدف اور مقصد کے لیے علت غیر طبیعی کی طرف رجوع کرے اور اس سے اپنی کامیابی کے لیے مدد طلب کرے تو کیا ایسے عمل کو شرک کہیں گے اور اس کی درخواست کو عبادت کا نام دیں گے؟

٢: یہ اعتقاد کہ ولی اس غیبی تسلط کا حامل ہے جو قوانین طبیعت پر حاکم ہے، کیسا ہے؟ اس مؤلف نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں اسی چیز پر تکیہ کیا ہے اور ہم اس کے بارے میں آئندہ گفتگو کریں گے، اس وقت ہم اس کے کلام کے پہلے حصہ پر بحث کرتے ہیں.

اگر کوئی شخص بطور حق اور صحیح طور پر یا خطا اور غلطی سے یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ اس کے مطلب کے حصول کے لیے دو سبب ہیں، ایک طبیعی و مادی جنبیہ اور دوسرا غیر طبیعی جنبہ، اگر طبیعی سبب فراہم ہو تو اسے اسی کے ذریعہ اپنا مطلب حاصل کرنا چاہیے اور جب یہ صورت نہ ہو تو وہ اپنے مطلوب کا حصول غیر طبیعی طریقہ سے بھی کر سکتا ہے، جو خاص مقدمات اور شرائط کے ساتھ اسے مطلوب تک پہنچاتا ہے. اب اگر کوئی شخص اس نیت اور مقصد کے ساتھ جس کے ذریعہ علت طبیعی کی طرف رجوع کرتا تھا اور اس کا اعتقاد یہ تھا کہ خدا نے یہ اثر اسے دیا ہے. اسی نیت کے ساتھ غیر طبیعی علت کی طرف بھی رجوع کرے اور اس کا عقیدہ یہ ہو کی خدا نے مثلاً ایک مشت خاک میں خاص حالات و شرائط میں شفا قرار دے دی ہے یا خدا نے حضرت مسیح (ع) کو یہ قدرت و طاقت دی ہے کہ اگر وہ چاہے تو خدا کے اذن سے بیمار کو شفا بخش سکتا ہے اور مردہ کو زندہ کر سکتا ہے.

: اگر کوئی شخص علل و اسباب طبیعی سے مایوس ہونے کے بعد اپنے سامنے امید کا ایک دریچہ کھلا ہوا دیکھے اور کربلا کی خاک یا دم مسیح ع کی طرف رخ کرے تو کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ اس نے خاک شفا اور مسیح ع کو اپنا “الہ” بنا لیا ہے حالانکہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ خدا نے اس خاک کو یہ اثر بخشا ہے اور مسیح ع کو جو کہ عبد اور بندے ہیں اس قسم کی قدرت عطا کی ہے، اب اگر اس اعتقاد کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے، غیر طبیعی اسباب کی طرف رجوع شرک ہو، تو پھر اسباب طبیعی کے ساتھ تمسک کو بھی شرک ماننا پڑے گا.

آپ اس کی اس عقیدہ کو (کہ خدا نے “سیدالشہدا” کی خاک میں شفا قرار دی ہے یا مسیح ع کو اس قسم کی قدرت دی ہے) باطل اور غلط قرار دے سکتے ہیں اور اس سے دلیل اور شہادت طلب کر سکتے ہیں کہ خدا نے امام کی خاک میں ہرگز شفا قرار نہیں دی ہے، یا مسیح ع کو ایسی طاقت اور قدرت نہیں دی ہے لیکن آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ آپ اس کو اس عقیدہ کی بنا پر مشرک سمجھیں، کیونکہ اس کی نظر میں طبیعی اور غیر طبیعی سبب سے استفادہ کرنے کی بنیاد ایک جیسی ہے اور اس کا اعتقاد یہ ہے کہ وہی خدا جس نے سورج کو تابانی جاند کو درخشندگی اور آگ کو سو زندگی دی ہے اور شہد میں شفا کا اثر قرار دیا ہے، اسی نے خاک شفا اور حضرت عیسٰی کو یہ قدرت اور لطف عنایت فرمایا ہے، بعینہ یہی مطلب ارواح مقدسہ اور اولیاء خدا سے حاجت طلب کرنے کے بارے میں ہے جن کے بدن تو مٹی میں چھپے ہوئے ہیں، لیکن ان کی ارواح عالم غیب میں زندہ ہیں اور سب کا حکم ایک ہی جیسا ہے.

استاد بزرگوار حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی دام ظلہ کا ایک مضمون اس بارے میں ہے جس ہم اختصار کے ساتھ یہاں نقل کرتے ہیں. اگر ہم کسی شخص کو خدائے جہاں سمجھیں یا اسے تاثیر میں مستقل جانیں اور اس عقیدہ کے ساتھ اس سے حاجت طلب کریں تو پھر ہم شرک سے دوچار ہوئے ہیں لیکن اگر ہم اس سے کسی اور طریقہ سے حاجت طلب کرتے ہیں اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ خدا جو ہر چیز پر قادر ہے اس نے اس مٹی میں ایک قربان ہونے والے کی قربانی کی قدردانی کے طور پر، جس نے دین کی راہ میں ہستی اور وجود تک کو قربان کر دیا تھا، شفا قرار دی ہے، تو ہم کسی بھی قسم کے شرک کے شرک کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں.

اگر کوئی خدا پرست یہ کہے : وہی خدا جس نے دوائیوں میں شفا کا اثر رکھا ہے اسی خدا نے ایک تھوڑی سی مٹی میں جس پر فداکاری مظلوم کا خون بہا ہے، وہی اثر اور شفا قرار دے دی ہے (تا کہ لوگوں کی آرزوؤں کی نگاہ مرتے دم تک اس سے نہ ہٹے) اگر وہ چاہے تو اس خدائی دوا کے ساتھ شفاء دے اور اگر نہ چاہے تو بیمار ایک پرمحبت دل کے ساتھ اپنے خدا سے اور ایک امیدوار آنکھ کے ساتھ عالم کے پیدا کرنے والے کی مقدس بارگاہ میں نازل ہو) تو اس کی درخواست کو ہرگز شرک نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس سبب کو جس کے ساتھ اس نے تمسک کیا ہے “الہ” سمجھا جا سکتا ہے.

: ہم اسلام کے بلند معارف میں پڑھتے ہیں “خداوند سبب ساز اور خدا سبب سوز” اس جملہ کا کیا معنی ہے، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ خدا کبھی ایک چیز کو ایک اثر بخش دیتا ہے اور کبھی اس سے اثر کو سلب کر لیتا ہے.

کبھی خدا سیاہ مٹی کو ایسا اثر بخش دیتا ہے کہ “وہ اس بچھڑے میں جو بنی اسرائیل کے زیورات سے بنایا گیا تھا” آواز پیدا کر دیتی ہے جیسا کہ ہم سامری کے واقعہ میں پڑھتے ہیں.

حضرت موسیٰ نے سامری سے کہا تو نے کیا کیا تھا کہ بچھڑے میں زندگی آگئی تو اس نے کہا :

بصرت بما لم يبصروا به فقدت قبضت من أثر الرسول فنبذتها(طه ٩٦)

میں نے تھوڑی سی مٹی رسول(جبرئیل) کے پاؤں کے نیچے کی اٹھائ اور “گوسالہ نما میں ڈال دی تو وہ زندہ ہو گیا.”

خداوند عالم نے اس مٹھی بھر خاک میں جس سے ایک زندہ نے عبور کیا تھا یہ قدرت بخشی ہے، تو اب اگر خدا اس خاک کو، جس پر ابدی اور جاودانی زندوں(شہدان راہ خدا) کا خون بہایا گیا ہے، اس قسم کا اثر بخش دے اور اس میں خاص حالات و شرائط کے ساتھ شفاء قرار دیدے، تو تعجب اور حیرت کی کوئی بات نہیں ہے اور اس قسم کی سبب کے ساتھ تمسک پکڑنا عین توحید ہے.

سبب ساز خدا نے حضرت یوسف علیہ السلام کے پیراہن میں یہ اثر رکھا تھا کہ جس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسے اپنی آنکھوں پر پھیرا تو ان کی بینائی پلٹ آئی، جیسا کہ فرماتا ہے :

فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا

جس وقت یوسف کا پیراہن اپنے چہرے پر ڈالا تو اس کی بینائی لوٹ آئی. (سورۃ یوسف ٩٦)

اس بنا پر ان اسباب سے فائدہ اٹھانا، چاہے وہ غیر طبیعی اور غیر مادی ہوں توحید کی ساتھ منافات نہیں رکھتا کیا ان نمونوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو قرآن میں وارد ہوئے ہیں، یہ بات صحیح ہے کہ ہم غیر طبیعی اسباب سے فائدہ اٹھانے کو باعث شرک اور غیر خدا کی عبادت سمجھیں.

ارواح مقدسہ سے توسل اور زندہ جاوید أرواح سے مدد طلب کرنا، ایک قسم کا غیر طبیعی اسباب سے تمسک ہے، اب رہی یہ بات کہ ان میں مدد کرنے کی طاقت اور استغاثہ کرنے والے کا جواب دینے کی قدرت ہے یا نہیں، وہ سردست ہمارے بحث نہیں ہے، اس وقت جو چیز زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ کیا غیر طبیعی اسباب سے اس قسم کا توسل اور فائدہ اٹھانا، توحید در عبادت اور شرک سے پاک اور منزہ ہونے کے ساتھ سازگار ہے یا نہیں.

اگر کوئی شخص (صحیح یا غیر صحیح) علل و اسباب کا معتقد ہو جائے کہ اسباب طبیعی و مادی کے بیکار ہو جانے کی صورت میں خدا نے ان أرواح مقدسہ کو اس قسم کی قدرت عطا فرمائی ہے کہ وہ خداوند عالم کے اذن و اجازت سے کسی درد مند کی فریاد کو پہنچیں اور اس کی غیب کے طریق سے مدد کریں تو اس قسم کے عقیدہ کو ہرگز شرک اور دوگانہ پرستی نہیں کہا جاسکتا.

.

آیت الله جعفر سبحانی

تفسیر موضوعی

اگلے حصے میں کیا سبب کی موت و حیات، شرک و توحید کی سرحد ہے؟

تحریر و پیشکش :عادل عباس