انصار سلیمان کا مظاہرہ قوت

​قرآن مجید بہت سے مواقع پر کرامات و معجزات کو ان کے حاملین کی طرف نسبت دیتا ہے. یہ اس لیے ہے کہ قرآن ان معجز نماؤں کے ارادہ و خواہش کو معجزات کے رونما ہونے کے بارے میں موثر جانتا ہے. قرآن ان. تمام کاموں کو توحید افعالی یا اس بات کے کہ تمام کام خدا وند تعالٰی کی قدرت و قوت سے انجام پاتے ہیں، منافی نہیں جانتا، کیونکہ اگر یہ حضرات اپنے حیرت انگیز اور خارق العادت کاموں میں ذمہ دار اور مستقل ہوتے اور مقام ایجاد میں اللہ تعالٰی کی قدرت سے بے نیاز ہوتے تو اس صورت میں توحید افعالی اور اس امر میں کہ کائنات میں اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں، تضاد پیدا ہو جاتا. لیکن اس کے برعکس اگر ان حضرات کے ایسے تمام افعال ایک ایسی قوت کے زیر اثر انجام پاتے ہیں جو پروردگار عالم نے ان کی بندگی واطاعت کے سایہ میں انہیں عطا فرمائی ہے تو یہ اعتقاد نہ صرف یہ کہ توحید افعالی کے ساتھ کسی طرح تضاد نہیں رکھتا بلکہ توحید افعالی کی اس کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں ہے. ہم اس سلسلے میں اب تصریحات قرآن پیش کرتے ہیں. 
سب جانتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سباہ کو اپنے حضور حاضر ہونے کا حکم دیا. لیکن اس سے ہیشتر کہ وہ آپ کے حضور پہنچتی، حضرت نے اپنے حاضرین مجلس سے فرمایا : 
“اے میرے درباریوں تم میں سے کون (بلقیس) کا تخت میرے سامنے (بلقیس مع اس کے ہمراہیوں کے) مطیعانہ وارد ہونے سے پہلے لاکر پیش کر سکتا ہے؟ ” (نمل، ٣٨)
حاضرین مجلس میں سے ایک نے کہا :
” اس سے پہلے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں (دربار برخواست) ہو میں اسے لے آؤں گا اور میں اس کام کی طاقت رکھتا ہوں اور امین بھی ہوں. ”

(نمل،٣٩)
ایک اور شخص نے جس کا نام مفسرین آصف برخیا بتاتے ہیں، جو حضرت سلیمان علیہ السلام کا وزیر اور ان کا بھانجا تھا، عرض کیا کہ دو چشم زدن میں اسے حاضر کر سکتا ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے :

” ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا یہ کہا کہ اس سے پہلے کہ آپ آنکھ چھپکیں میں اس (تخت) کو آپ کے دربار میں حاضر کرونگا. اچانک حضرت سلیمان علیہ السلام نے تخت کو اپنے سامنے حاضر پایا اور فرمایا کہ یہ فضل و نعمت مجھ پر میرے رب کی طرف سے ہے. ” (نمل، ٤٠)
ان آیات کے مطالب میں ہمیں غور کرنا چاہیے تاکہ  سمجھ سکیں کہ ان خارق العادۃ افعال کا عامل (تخت بلقیس کا حاضر کرنا) کیا ہے؟ کیا خارق العادۃ فعل کا فاعل براہ راست اللہ تعالی ہے اور وہی عالم طبیعی میں اس تحرک کو انجام دیتا ہے جبکہ آصف برخیا اور دوسرے افراد صرف دیکھنے والے ہیں اور ان کاموں میں کوئی معمولی سا دخل  بھی نہیں رکھتے؟ یا اس طرح ہے کہ ان کاموں کے کرنے والے دوسرے لاکھوں کاموں کی  طرح جنھیں عام انسان اللہ تعالٰی کی قدرت سے انجام دیتے ہیں،  خود وہی انسان ہیں، کیا حقیقت یہ تو نہیں کہ یہ حضرات اس قوت کو اللہ تعالٰی کے تقرب کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اور خود اپنے ارادہ سے اس قسم کے خارق العادۃ کے عامل ہوتے ہیں؟ تینوں آیات بظاہر موخر الذکر نظریہ کی تائید کرتی ہیں. کیونکہ 
اولا: حضرت سلیمان علیہ السلام ان لوگوں سے یہ کام کروانا چاہتے ہیں اور ان کو اس کام پر قادر جانتے ہیں. 
ثانیاً : جس شخص نے کہا تھا کہ میں تخت بلقیس کو دربار کے برخواست ہونے سے پہلے لے آؤں گا، وہ اس جملہ میں اپنی توصیف بیان کرتا ہے کہ وانی علیہ لقوی امین یعنی میں اس کام کو کر سکتا ہوں، اس کی قوت رکھتا ہوں اور اپنے بارے میں مطمئن ہوں. اگر اس شخص کا وجود و ارادہ اس کام کے لیے کافی نہ ہو اور اس کی حیثیت تھیئٹر کے اداکار کی مانند ہو تو پھر یہ کہنے کی کہ میں اس کام کو کر سکتا ہوں اور امین ہوں، کوئی وجہ نظر نہیں آتی. 
ثالثا: دوسرے شخص نے کہا کہ میں اسے بہت تھوڑی دیر میں (پلک جھپکتے ہی) لے آؤں گا بلکہ اس خارق العادۃ کام کو اپنی طرف نسبت دے کر کہتا ہے : اتیک لے آتا ہوں. ”

اگر ضروری ہوتا کہ قرآن مجید اس حقیقت کی وضاحت کرے کہ اولیاء کے نفوس پر ان کے ارادے و خواہشات، معجزات و کرامات اور خارق العادۃ افعال پیش کرنے کے سلسلے میں دیگر شخصیات اثر رکھتی ہیں تو اس سے زیادہ واضح کون سے الفاظ ہو سکتے ہیں تاکہ اس زمانہ کے شاکی لوگ ان کو تسلیم کر لیں اور تاویلات میں نہ پڑتے پھریں. 
رابعاً:  خداوند عالم دوسرے شخص کی حیرت انگیز توانائی کا سبب اس کی علم کتاب سے واقفیت کو قرار دیتا ہے. یہ وہ علم و حکمت ہے جو عام آدمی کے دائرہ اختیار سے قطعی باہر ہے. یہ علم ان علوم سے ہے جو بعض بندگان خدا کے لیے ہوتے ہیں. ان علوم سے واقفیت اس قرب الہی کی مرہون منت ہوتی ہے جو اس قسم کے بزرگ حضرات کو اللہ تعالٰی سے حاصل ہوتا ہے. جیسا کہ فرماتا ہے :

قال الذی عندہ علم من الکتاب 


تحریر ال احقر عادل عباس

نقل از قران کا دائمی منشور

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s