توسل اور ہمارے عوام میں نئے کمزور توحیدی افراد کا دخل

توسل اور ہمارے عوام میں نئے کمزور توحیدی افراد کا دخل

مسئلہ یہ کہہ دینے سے کہ معصومین کی دعائیں ہیں انہوں نے کسی سے توسل نہیں کیا ہمیں ان کی ہی پیروی کرنی چاہیے، حل نہیں ہوتا. غور و فکر بھی کسی شئی کا نام ہے

پہلی بات معصوم خود وسیلہ ہیں اور قرب کی اعلی ترین منزل پر فائز ہیں انہیں کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں پھر بھی معصومین اپنی اکثر دعاؤں میں توسل کرتے ہیں ایک دوسرے کے زریہ یعنی اپنے سے بزرگ ذوات پہ درود بھیج کر اور ان کا واسطہ دیکر جو کہ اہل بیت میں سے ہی ہیں، خود ہی سے ان دعاؤں کی طرف رجوع کر کے دیکھ لیں جو آیمہ نے تعلیم کہ ہیں.

اب اس حالت میں آئمہ کرام سے موازنہ کرنا نری جہالت ہے. جب قرب کے کامل ترین منازل پر فائز ذوات ایک دوسرے کو وسیلہ بناتی ہیں تو ہم کون ہیں جو وسیلہ پہ شک کر سکتے ہیں جو لوگو شک میں مبتلا ہیں انہیں کافی غور و فکر کرنا چاہیے، آئمہ کی دعائیں سرف ہمیں حاجات برآری کا ذریعہ نہیں بتا رہی بلکہ مکمل درس ہیں، لیکن سادہ لوح عوام علماء کرام کی تعلیمات سے دور رہ کر پتا نہیں کس جگہ سے بوسیدہ افکار حاصل کر رہے کہ اب انہیں توسل پہ شک ہونے لگا ہے، ان کے ذہنوں میں یا علی، یا محمد جیسے کلمات کہنے میں شرک نظر آتا ہے؟

حوش کے ساتھ کام لینے کی ضرورت ہے، علم کی ضرورت ہے، اور ہمیں عقائد سہی جگہ سے سمجھنے کی ضرورت ہے جو کہ ہمارے مراجعین کرام ہیں.

خدایا ہمیں توفیق دے کہ ہم علم حاصل کر سکیں اور اس پہ عمل کر سکیں..

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s