توحید اور ولایت تکوینی

توحید اور ولایت تکوینی

عالم آفرینش عالم اسباب و مسببات ہے. اللہ تعالٰی کے ارادہ حکیمانہ کا تقاضا یہ ہے کہ واقع ہونے والا ہر حادثہ اپنے مخصوص اسباب کا مرہون منت ہو. اس کے باوجود اسباب و علل کا تمام نظام اللہ تعالٰی کی ذات پر منتہی ہوتا ہے اور اسی سے یہ اپنی قوت و طاقت حاصل کرتا ہے. وہی وہ ذات ہے جو سبب کو پیدا کرتی ہے، پھر اسے قوت و طاقت بخشتی ہے اور اسے اس کے مخصوص معلول کی ایجاد پر آمادہ فرماتی ہے. در حقیقت تمام کائنات میں مؤثر حقیقی صرف ایک ہی ہے اور تمام نظام کائنات، جو اسباب و مسببات کی شکل میں جلوہ گر ہے، سب اسی مؤثر حقیقی سے مدد حاصل کرتا اور اسی پر منتہی ہوتا ہے.
حقیقت توحید یہ ہے کہ ہم ہر سبب کو اس کے نتائج کے اعتبار سے مستقل نہ جانیں اور یہ خیال بھی نہ کریں کہ حضرت احدیت کی قدرت ربوبیت کی موجودگی میں کوئی اور ہستی اپنے مقام پر مستقلاً کسی چیز کو خلق کر سکتی ہے، نظام آفرینش میں تصرف کرنے کی اہل ہے اور اس کا ارادہ خداوند عالم کے ارادہ سے الگ کوئی چیز ہے. یہی توحید در افعال ہے.
اس بنیاد کو قبول کر لینے سے اللہ تعالٰی کے اولیاء کے بارے میں ولایت تکوینی پر اعتقاد نہ صرف یہ کہ شرک کی آمیزش نہیں رکھتا بلکہ یہ عین توحید ثابت ہوتا ہے. کیونکہ جب بھی ہم کسی معمول کی حرکات کو، خواہ وہ بالکل عمومیت کہ منزل پر ہوں، یعنی چلنا پھرنا، بات چیت کرنا وغیرہ یا وہ غیر معمولی حرکات یعنی انبیاء کرام کے معجزات اور اولیاء کی کرامات ہوں، مستقل و بااختیار سمجھ لیں اور یہ تسلیم کر لیں کہ وہ شخص ان افعال کو اللہ تعالٰی کی قدرت و مشیت سے علیحدہ انجام دیتا ہے تو اس صورت میں ہم شرک میں آلودہ ہوں گے.
لیکن انسان کو اگر ہر مقام و منزل میں ہر قسم کے افعال و ایجاد میں مستقل تصور نہ کریں، اس کے عمل کو ارادہ خدا سے الگ نہ جانیں تو اس صورت میں نہ تو ہم جادہ توحید سے متجاوز ہوں گے اور نہ ہی صرات مستقیم سے منحرف قرار پائین گے.
جاننا چاہیے کہ توحید و شرک کی اصلیت و بنیاد یہ نہیں ہے کہ ہم تمام عمومی و طبیعی افعال کو بندوں کی طرف ہی منسوب کر دیں، ان کو تمام ایسے افعال میں مستقل و مختار جانیں اور ایسے بڑے بڑے کاموں کو، جو نظام طبیعی کے دائرے سے باہر ہیں، براہ راست اللہ کی طرف نسبت دیں کیونکہ اس طرح تو شرک سے فرار ہوتے ہوئے بھی ہم شرک سے دوچار ہو جائیں گے. اس کے برعکس اصلیت توحید یہ ہے کہ بندگان خدا کو تمام افعال کے مقام فاعلیت میں اللہ تعالٰی کی قوت و تصرف سے بےنیاز نہ جانیں، خداوند عالم کے ارادے و مشیت کو انسانوں کی خواہش سے ماوراء سمجھیں اور اس سلسلہ میں خارق العادۃ اور دیگر افعال میں کسی طرح کا فرق نہ رکھیں.
اصولی طور پر اس طرح ہونا چاہیے کہ ہم تمام موجودات عالم کے مقام و اصلیت کا مقام ربوبیت کی مناسبت سے اندازہ لگائیں اور تحقیق کریں. دنیا میں کوئی وجود، عام اس سے کے مجرد ہو یا مادی ہو، اذن و قدرت خداوند تعالٰی کے بغیر کسی فعل کا فاعل نہیں ہو سکتا. ہر فاعل کی حیثیت بطور فاعل اور ہر مؤثر شئے کی تاثیر، آفتاب کی درخشندگی سے لیکر ماہتاب کی نورافشانی تک، عوام الناس کے چلنے پھرنے اور بولنے چالنے سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لوگوں کو شفایاب کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے تک، ایک قوت کے اثر سے ہوئی ہے جو خداوند تعالٰی سے اخذ ہوتی ہے، ایک قوت کے زیر سایہ عمل کرتی ہے جو ہر وقت مقام ربوبیت سے انسان تک پہونچتی رہتی ہے. اس سلسلہ میں فاعل دانا اور غیر دانا اور عمومی و غیر معمولی افعال میں کوئی فرق نہیں ہوتا. اس طرح انسان کے تمام افعال ایک معنی میں خود اس کے معلول اور دوسرے لحاظ سے اللہ تعالٰی کے معلول ہوتے ہیں.
اس حقیقت کو صرف فلسفہ کے دلائل ہی سے ثابت نہیں کیا جاتا بلکہ اہل بیت رسالت کی متواتر احادیث میں یہ حقیقت بطور “بل امر بین الامرین” وارد ہوئی ہے. کیونکہ ایک جماعت نے اللہ تعالٰی کے بندوں کے افعال کو براہ راست فعل خدا سمجھا اور اپنے آپ کو آلہ کار سے کسی طرح بہتر نہیں جانا. یہ جبریہ عقیدہ کے لوگ ہیں جن کو اصطلاح میں “مجبرہ” کہتے ہیں. ان کے مقابلہ میں “مفوضہ” کی جماعت ہے جو انسان کو اس کے افعال میں بالکل بااختیار اور اللہ تعالٰی کی قدرت سے بےنیاز تصور کرتے ہیں. یہ لوگ صرف یۃ کہتے ہیں “ہم اپنے وجود اصلی کے لیے خداوند عالم کے محتاج ہیں، افعال و ایجاد میں نہیں.”
مکتب تشیع کے معصوم آئمہ نے کتاب خدا یعنی قرآن مجید اور علوم نبوی سے استفادہ کرتے ہوئے ان دونوں مکاتب فکر کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے :
لا جبر ولا تفویض بل منزلۃ بین المنزلتین
نہ تو جبر صحیح ہے اور نہ تفویض بلکہ ایک منزل ہے ان دونوں منازل کے درمیان(یعنی ان دونوں راستوں کے مابین ایک راستہ)
بحار الانوار، جلد ٥، صفحہ ٧١)

حضرت عیسی علیہ السلام کے مردہ کو زندہ کرنے کو فعل خدا کا نام دیا جا سکتا ہے “خدا نے زندہ کیا کیونکہ تمام قدرتوں کا سرچشمہ اسی کی ذات والاصفات ہے. اگر خدائے بزرگ حضرت عیسی کو قوت عطا نہ فرماتا تو وہ ہرگز نہ کسی بیمار کو شفایاب کر سکتے اور نہ ہی ان سے کوئی مردہ زندہ ہوتا.” اسی طرح ہم اس فعل کو حضرت عیسی علیہ السلام کا فعل قرار دیتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ “حضرت عیسی علیہ السلام نے مردہ کو زندہ کر دیا کیونکہ جو قدرت ذات باری تعالٰی نے انہیں عطا فرمائی تھی وہ اسے اس موقع پر کمال حریت و آزادی کے ساتھ بروئے کار لائے.”
قرآن مجید ایک مقام پر قبض روح کو فعل خدا گردانتے ہوئے فرماتا ہے :

اللہ تعالٰی لوگوں کی جانوں کو مات کے وقت قبض کر لیتا ہے. (زمر، ٤٢)

کہہ دیجیے کہ ملک الموت جس کو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری جان لے لیتا ہے. (سجدہ، ١١)

ان دونوں نسبتوں میں اصل نکتہ یہ ہے کہ فرشتہ موت اللہ تعالٰی کا مامور کردہ اور اس کا غیبی کارندہ ہے. یہ فرشتہ اس قوت و طاقت کے ساتھ، جو اسے پروردگار عالم کی طرف سے مرحمت ہوئی ہے اللہ تعالٰی کے حکم و اجازت سے لوگوں کی روح قبض کرتا ہے.
حضرت عیسی علیہ السلام بھی حیرت جیز اعمال کی انجام دہی میں اسی حیثیت کے مالک ہیں جو ملک الموت کو حاصل ہے. دونوں اللہ تعالٰی کی طرف سے مامور اور اس کی قدرت کے زیر سایہ اپنے کاموں کو انجام دیتے ہیں، لہٰذا ولایت تکوینی کے بارے میں شرک کی ہر قسم کی فکر و سوچ قطعی طور پر بےبنیاد ہے اور خداوند عالم کے لیے علل جہانی کی نسبت میں عدم دقت کی وضاحت کرتی ہے.

………….
اقتباس از تفسیر موضوعی.
………….

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s