عید زہرا اھل بیت کی سیرت کے سائے میں

سلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج ہمارا موضوع عید زہرا ہے، تاریخی لحاظ سے عید زہرا کی کیا حیثیت ہے علماء تاریخ کی نظر میں یہ ایک وسیع اور دقت طلب موضوع ہے کیونکہ معاشرے میں بہت ساری باتیں اس عید کے متعلق سنائی دیتی ہیں، جو کسی نہ کسی طرح کی روایت کے ہونے کی وجہ سے معاشرے میں گردش کرتی ہیں اب چاہے یہ روایات جھوٹی ہوں یا سچی لیکن علماء تاریخ ہی حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ان کی طرف رجوع کریں، بہرحال عید زہرا منانے کے پیچھے کافی وجوہات کا ہونا بتایا جاتا ہے، جیسے کوئی کہتا ہے اس دن امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے قصاص لیا گیا جس کی وجہ سے اہل بیت کے گھرانے کو افراد کے چہرے پر خوشی آئی، کچھ افراد کہتے ہیں کہ بارہویں امام محمد محدی (عج) کی تاج پوشی کا دن ہے یعنی وہ اسی دن امامت کے منصب پر فائز ہوئے اپنے والد کی شہادت کے بعد جو کہ ٨ ربیع الاول ہے اسی طرح کی کچھ اور باتیں ہیں ہر کسی کا ذکر ممکن نہیں کیونکہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے، ہم یہی گزارش کرتے ہیں قارئین خود علماء تاریخ کی طرف رجوع کریں کہ حقیقت جان سکیں اور معتدل نظریہ قائم کر سکیں.

ہمارا موضوع ہے عید زہرا کیسے منائیں
بہت افسوسناک بات ہے کہ مجھ جیسے ناقص علم کو اس موضوع پہ لکھنے پر مجبور ہونا پڑا. وجہ یہ ہے کہ پہلے تو ہم میں سے اکثر نے عید کا ہی ایک الگ تصور بنا لیا ہے جو کہ رہنمایانے الہی کی سنت کے بالکل برعکس ہے، ہماری اکثریت کے لیے عید کی آمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب جو ٹیلیویژن بند تھے کھل جائیں، اب ہم ہر طرح کی موویز دیکھ سکتے ہیں، گانے سن سکتے ہیں، اپنے پروگراموں کا انداز بدل سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ خوب یہ ایک تصور ہے جس پر ہمارے یہاں عید مناتے ہیں لوگ جبکہ الہی رہنماؤں کے فرامین کے مطابق یہ مذکورہ عمل عید کے دن سے کوئی تعلق نہیں رکھتے بلکہ معصیت و لہو لعب ہیں، معصومین علیہم السلام کے مطابق عید تو اس دن کو کہنا و سمجھنا چاہیے جس دن ہم سے کوئی گناہ نہ ہو اور ہمارا دن عبادت میں گزرے، یہ عید ہے جو معصومین نے بتائی.
ایک طرف ہمارے معاشرے کی حالت ہے کہ ہم لہو لعب، گناہ کرنے، عبادتوں کو ترک کرنے یا کم کر کے دوسرے کاموں میں مصروف ہونے کے دن کو عید کہتے ہیں اور یہی عید کے دن کرتے ہیں یا یہ کہیے کہ انہیں کاموں کی ابتداء کرنے کا دن مناتے ہیں اسی دن پلاننگ پر عمل کرکے، افسوس صد افسوس..

اب کچھ عید زہرا سلام اللہ علیہ کی بات کرتے ہیں، یہ عید ایسی پاک و پاکیزہ ذات سے منصوب ہے کہ جس کا نام لینے سے ناپاک زبانیں رک جاتی ہیں، ہم جتنا بھی لکھ دیں سیدہ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہ کی عظمت و فضائل نہیں بیان کر سکتے.
٩ ربیع الاول عید زہرا سلام اللہ علیہ ایسی ذات سے منصوب ہونے کے باوجود، ایسے گندے، گھنونے انداز میں منائی جانے لگی ہے کہ دل چیکھ اٹھتا ہے کہ کیا واقعی یہ لوگ جو عید کے نام پہ یہ اعمال انجام دے رہے یہ زندہ ہیں یا مر گئے(یزیدی ہو گئے).
مینے اپنی زندگی کے اتنے سالوں لکھنؤ میں زہرا سلام اللہ علیہ کی ذات سے منصوب دن کو اس طرح سے مناتے دیکھا ہے کہ کئی بار میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ کیا ہمارے آئمہ کرام و سیدہ زہرا سلام اللہ علیہ ایسی عید منانا بتا گئی ہیں، کیا ہم امام کے سامنے بھی اسی طرح عید زہرا منائیں گے.

عید زہرا کے دن تبرہ کرنا عبادت سمجھ کر، تبرہ کے نام پر جو کیا جاتا ہے، سمجھ نہیں آتا کیسے بیان کروں پر ایک تصویر دکھانا ضروری ہے کہ سہی اور غلط کے درمیان فرق واضح ہو جائے، عید زہرا کے دن ہم دیکھتے ہیں کہ تبرہ کے نام پر ایسی ماں، بہن، بھائی، باپ، شرمگاہوں کے نام، کی گالیاں بکی جاتی ہیں، گھروں پہ زور زور سے گانے سنے جاتے ہیں، جو بچے ابھی بالغ بھی نہیں ہوئے ان کو تک اس طرح کے اجلاس میں شرکت کروائی جاتی ہے، کچھ کام شاید چھوڑ کر ہر برا کام کر لیتے ہیں عید زہرا کی خوشی میں، اور کہتے ہیں آج کے دن جائز ہے تبرہ کے نام پر ان بدکاریوں کا انجام دینا عید زہرا منانا ہو گیا ہے اور علماء کی اکثریت خاموش ہے اور کچھ تو خود ہی اسے عمل انجام دیتے ہیں اللہ ان علماء نما گدھوں سے قوم کو نجات دے یا قوم کو اس قابل کر دے کہ وہ ان گدھوں سے نجات پا لیں.
جو عید زہرا سلام اللہ علیہ کا تریقہ ہم دیکھ رہے اپنے بچپن سے وہ عید زہرا منانے کا تریقہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا، ہاں لیکن یہ اس تریقہ سے ضرور ملتا جلتا ہے جو یزید کی طرز زندگی تھی یعنی بدکاریوں انجام دیکر خوش ہونا، بہت ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں یزید کے طریقے پر عمل پیرا ہو کر عید زہرا منانے کا دم بھرنا خود کو تو دھوکا دینا ہے ہی بلکہ اللہ اور معصومین کو بھی دھوکہ دینا ہے جو کے گناہ کبیرہ ہے.
اب ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں یہ برے اعمال انجام دینے والے عید یزید مناتے ہیں اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہ سے منصوب کرتے ہیں، اگر نہ یقین ہو تو خود ہی معصومین کی سیرت کا مطالعہ کریں، انکی زندگی، انکے ارشادات پڑھیں اور یزید و اس جیسے کی زندگی پر نظر کریں خود ہی اس بات کی حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا کہ ہم کس کی سیرت کے مطابق عید منا رہے، معصومین علیہم السلام اور ان کے دشمنوں کی سیرت پہ لکھنا اس وقت ممکن نہیں، انشاءاللہ توفیق الہی شامل حال رہی تو اس پہ بھی لکھ کر بات واضح ترین کر دیں گے پر اس مقالے میں یہ ممکن نہیں ہے، گزارش ہے کہ برادران، خواہران سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں.

آخر میں یہ ارض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان برے اعمال کو عید زہرا کے نام پر انجام دینا تو گناہ ہے ہی لیکن ایک گناہ یہ بھی ہے کہ ہم یہ اس دن تبرہ جو کہ فروع دین کا حصہ ہے اس کے نام پر کرتے ہیں یعنی ہر طرح کی گندی سے گندی گالیاں بکنا، ایک تو یہ تبرہ کی اصل کو بگاڑنا ہے اور دین کی توحین کرنا ہے کیونکہ یہ سب تبرہ کے نام پر کیا جاتا ہے.

اگر تھوڑی سی بھی کوشش کی جائے معصومین کی زندگی کا مطالعہ کرنے کی تو آپ خود ہی جان جائیں گے کہ فروع دین میں جو تبرہ ہے وہ برائی سے ہے بروں سے نہیں جب تک کہ کوئی یزید جیسا نہ ہو جو اسلام کا کھلا دشمن ہو جیسے آج کے دور میں امریکہ و اسرائیل
معصومین کے ارشادات میں ملتا ہے کہ انہوں نے کسی پر بھی سب شتم و لعنت و ملامت سے منہ کیا ہے، صرف حقیقت بیان کرنے کی اجازت دی ہے وہ بھی مودبانہ انداز سے کہ کسی کے جذبات مجروح نہ ہوں، گالیاں تو بہت ہی دور کی بات ہے، اگر کسی کو یقین نہ آئے تو نھج بلاغہ دیکھے کہ امام کیا حکم دے رہے، اور گالیوں فحش کلامی، لحو لعب، ننگ و آر سے بھری موویز، دیکھنا، گانے سننا کیسا ہے یہ بھی معصومین کے ارشادات سے واضح ہو جائے گا اور تبرہ کا حقیقی مفہوم و تریقہ بھی، قرآن وہ کتاب ہے جو ہمیں تولہ و تبرہ دونوں سکھاتی ہے، تولہ ہمارے موضوع سے باہر ہے تو اس پہ کبھی اور لکھیں گے، قرآن میں جب خدا تبرہ کر رہا تو برائی سے، کبھی جھوٹوں پر لعنت، تو کبھی فاسقین پر، تو کبھی مشرکین پر، کبھی غاصبین پر، نام لے کر تبھی لعنت کی جب کوئی کھلا دشمن فرعون و ابو لحب جیسا تھا جو کھلے عام دین الہی کے خلاف عمل کرتے تھے، اب یہ ہم پر ہے کہ حدیث ثقلین پڑھنے والے، یاد رکھنے والے ہم محب اہل بیت علیہ السلام، ثقل اکبر (قرآن مجید) کے تریقہ پر عمل کرتے ہیں، یا پھر اہل بیت کے دشمنوں کے تریقہ پر جو کہ منبروں پہ جاکر گالیاں بکتے تھے، جواب ہم سب کو اللہ کی بارگاہ میں دینا ہے کہ ہمارے لیے رول ماڈل کون تھا دنیا میں کیونکہ خدا کے بنائے رول ماڈل تو چہاردہ معصومین ہیں لیکن اگر ہم ان کی سیرت کے مطابق عمل نہ کر کے انکے دشمنوں کے تریقے اپناتے ہیں تو ہم کیا جواب دے پائیں گے خدا نے ہمیں پاک و پاکیزہ کرنے کے لیے معصومین کو بیجھا ہے اور اگر ہم خود ہی اپنے کو آلودگیوں میں ڈال دیں گے تو ہم ناکامیاب ہو جائے گے دشمنانے اہل بیت علیہ السلام کی طرح جو کہ واقعی ایک بہت بڑی رسوائی ہے.

عزیزان من عید لہو لعب، ایاشیاں، بدکاریاں کرنے کا نام نہیں ہے، اور نہ ہی عید زہرا میں تبرہ کرنا گالیاں بکنے کا نام ہے بلکہ سیرت معصومین علیہ السلام پہ عمل کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ہر طرح کے برائی سے تبرہ کریں خود ان برائیوں کو خود سے دور کرکے، تبرہ کے معنی ہی دوری اختیار کرنے کے ہیں اور جب ہم خود ایسا عملی قرآنی تبرہ کریں گے تو ہم میں خود بہ خود اہل بیت علیہ السلام جیسا تبرہ کرنے کی قوت مل جائے گی جو کہ امام حسین علیہ السلام نے لاکھوں کے لشکر کے سامنے دین کو پامال کرنے والے، دین میں تحریف کرنے والے، بدعت کو رائج کرنے والے یزید کے لیے کیا، یہ وہ تبرہ ہے جو ہمیں اپنے دور کے یزید سے کرنا ہے، وہ یزید اور یزیدی(امریکہ اور اسرائیل و انکے ہاتھوں بکے ہوئے مسلم و غیر مسلم) جو دین کو پامال کرتے ہیں بدعات پھیلا کر، بھلے ہی اپنوں کے لباس میں ہوں، وہ یزیدی جو مسلمانوں و غیر مسلم کو بیگناہ قتل کر رہے، ان کے اولاد و اموال لوٹ رہے ان پر جابرانہ انداز سے حکومت کر رہے ہمیں ان سے تبرہ کرنا ہے اپنے امام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے.

عید زہرا سلام اللہ علیہ کا احترام کریں، اس کے لیے ضروری ہوگا معصومین کی سیرت پر عمل کرنا، عید کا مطلب زیادہ سے زیادہ قرب الہی کا حصول جو کہ سب سے زیادہ گناہوں سے دوری اختیار کرنے سے حاصل ہوتا ہے باقی واجبات و مستحبات انجام دینا، کیا خوب ہو کہ ہم روز عید غریبوں کا سہارا بنیں، فقیروں کی شکم پر کر دیں، یتیموں کی مدد کریں، جن کے تن پر لباس نہیں انہیں لباس دیں.
خدا کی قسم یہ ہے وہ تریقہ جس طرح اللہ اور اھل بیت اطہار نے بتایا ہے، جس پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے.

آخری ہم خود کے ساتھ آپ سب کے لئے دعا کرتے ہیں کہ ہم اپنے وقت کے امام کے حقیقی شیعہ بن جائیں اور ہمارے وقت کا امام کو ان ظہور ملے کہ وہ دنیا کو فرعونوں و فرعونیت سے ہمیشہ کے لیے نجات دے. آمین

وسلام علیکم

تحریر : احقر عادل عباس

Advertisements

2 thoughts on “عید زہرا اھل بیت کی سیرت کے سائے میں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s