طھارت اور عصمت در ذات انبیاء، اوصیاء اور آیمہ ع، قسط ٣

سوال نمبر ٢ برائے تحقیق

اب، ہم اپنے دوسرے سوال کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ ہے:

جب ہم انبیاء، مرسلین، اوصیاء اور آیمہ ع کے لئے طھارت اور عصمت کی بات کرتے ہیں، تو ہم خود سے سوال کرتے ہیں کی طھارت اور عصمت واقعی میں ہے کیا؟

دوسرے الفاظ میں، آخر کیا ہے جس سے انکو طاہر کیا گیا ہے اور کیا جس سے حفاظت کی گئی ہے؟ اس لئے اس سوال کے دو پہلو ہیں :

١) آخر کیا ایسا ہے جس سے ان کو پاک کیا گیا؟

٢) آخر کیا ہے جس سے ان کی حفاظت کی گئی ہے؟

سوال ١ کے آخر میں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ طھارت اور عصمت کے بیچ ایک رشتہ ہے اور عصمت سے مراد کسی چیز کی حفاظت کرنا ہے گندا ہونے اور پاکیزگی کی کیفیت کے زائل ہونے سے. اس بنا پر، یہ اخذ کیا جا سکتا ہے عصمت بھی اسی چیز سے متعلق ہوگی جس سے متعلق تطھیر ہے.

مثال کے طور پر، اگر آپ کسی چیز کو جراثیم سے پاک کریں گے، آپ اسے دوبارہ آلود ہونے سے محفوظ بھی رکھیں گے. اس لیے، عصمت بھی اسی چیز کی ہوگی جسکی طھارت ہوئی ہو. اس نظریے کے مطابق ایک سوال کے دونوں پہلوؤں ١،٢ کا جواب ایک ہی ہوگا، اس بنا پر ہمارہ سوال ایک ہی ہے؟

انبیاء، مرسلین، اور آیمہ ع کی طھارت سے کیا مراد ہے؟

اس سوال کا جواب دینے میں، علماء تشیع اور مکتب اہل بیت کے فقہاء میں اختلاف رہا ہے اور ہر گروہ کا اپنا نظریہ اور اسکے پیچھے دلائل موجود ہیں. خیال رہے ہمارے علمائے کرام سب ہی معزز اور قابل احترام ہیں، اور کوئی ایسی بات نہیں کہتے جسے سچ کے قریب ترین نا سمجھیں، اور الله سبحانه وتعالى کی علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرتے.

اس لئے ہمارے لیے مناسب نہیں ہے، اور نا ہی ہمارہ یہ مقصد ہے کی ان کے نظریات کا مذاق اڑایا جائے. بلکہ ہم غور فکر اور اپنی عقل کا استعمال کریں گے اور اس سے علماء کی منزلت اور درجات میں کوئی کمی نہیں آیے گی، چاہے ہم ان کے کچھ افکار اور نظریات سے اتفاق نا بھی رکھتے ہوں.

ہم اپنے سوال کی طرف لوٹتے ہیں جسکا ہم منطقی اور معقول انداز میں جواب دینے کی کوشش کریں گے؛ انبیاء، مرسلین، اوصیاء اور آیمہ ع کو آخر کس چیز سے پاک کیا گیا؟ ہم کو انسانی منطق کو لگو کرنے کے لیے اپنی روزانہ کی زندگی پر غور کرنا چاہیے جس سے کی ہم اس سوال کا جواب حاصل کر سکیں.

مثال کے طور پر، اگر آپ کسی اہم شخصیت سے ملنے یا شادی یا کوئی دعوت میں شرکت کے لئے کپڑے صاف کرنا چاہتے ہیں تو آپ کس چیز سے کپڑے کو صاف کریں گے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ داغ دھبوں، دھول، بو اور جھریوں سے پاک کریں گے جس سے کی کپڑے پہن نے کے قابل ہو جائیں.

دوسری مثال: اگر آپ کسی چاقو یا کینچی کے جوڑے کو صاف کرنا چاہتے ہیں جن کا استعمال انسان کے جسم کی سرجری (جراحت) میں ہونا ہے، تو ان دو چیزوں کی کیا صفائی کی جائے گی؟ اس جگہ آپ ان سے مختلف قسم کے جراثیموں سے صاف کریں گے. آپ کی مرکزی فکر یہ ہوگی کہ مریض کا زخم جراثیم سے آلود نا ہو جائے جس کی وجہ سے اس کی موت واقع نا ہو.

اس اعتبار سے سے پاکیزگی اور جراثیم کشی کے عمل کے بعد، چاقو یا کینچیاں اپنے کام کو انجام دینے کے قابل ہو جائیں گی، جس کے لیے بہت صلاحیت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جس حد تک ممکن ہو. ہم اپنی روزانہ کی زندگی سے اس طرح کی کافی مثالیں دے سکتے ہیں جس سے کی ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ مُطَھَر کی طرف سے جو کام انجام پاتا ہے اور جس چیز سے اس کو طاہر کرتے ہیں ان کے بیچ ایک سیدھا اور یقینی رشتہ ہے.

دوسرے لفظوں میں، عملِ تطھیر بنیادی طور پر مُطَھَر کو زیادہ مناسب اور بہتر طریقہ کار پر اپنے کام کو انجام دینے کے قابل بنانے کے لیے ہوتا ہے، یہ معقول، منطقی اور بہت واضح ہے جسکا استعمال ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہوتا ہے. ہم اپنی کسی کام کی چیز کو اس لیے پاک اور صاف کرتے ہیں کی اس چیز کی کام کرنے کی صلاحیت میں کوئی نقص نا پیدا ہو، اور وہ چیز کامیابی سے اپنے کام کو انجام دیتی رہے.

آئیں اب ہم اسی منطق کو اپنے موجودہ سوال پر لاگو کرتے ہیں، جیسا کہ ہم پائیں گے ہمارے انبیاء، مرسلین، اوصیاء اور آیمہ ع کو ان چیزوں سے پاک ہونا چاہیے جن کی موجودگی ان کو الله کی طرف سے ملی ذمہ داریوں کو نبھانے میں رکاوٹیں ڈال سکتی ہیں. ایسی طھارت سے ان حصتیوں کو اپنے کاموں کو زیادہ بہتر طریقے سے کرنے کے قابل ہونا چاہیے جو کام اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ان کو بھیجا گیا ہے.

یہ جاننے کے لیے کہ ان کو کن چیزوں سے پاک رکھا گیا، ان کی ذمہ داریاں اور کاموں کی شناخت کرنا ہوگی جو الله نے ان کو سونپے ہیں. ہم کو اس کے ممکن نتائج اور پیش آنے والے آثار کی جانکاری ہونی چاہیئے کہ ہم منطقی طور پر جواب حاصل کر سکیں. اب یہ دیکھنا ہوگا کہ انبیاء، مرسلین، اوصیاء اور آیمہ ع کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

آئیں ایک نظر کریں:

١) الله سے حاصل احکام اور فرامین کو لوگوں تک پہنچانا..

٢) الله کے نازل کردہ احکامات کی اطاعت کرنے کی نصیحت و تاکید کرنا اور الہی پیغامات کو انجام دینا.

٣)الله کے نازل کردہ احکامات کی پوری توجہ سے اطاعت کرنا اپنی ذاتی اور منصبی ذندگی میں جس کی ان کو تعلیم دی گئی ہو، اور بنا کسی اپنی طرف سے کمی یا اضافے کے ساتھ.

٤) الله سبحانه وتعالى کے نازل کردہ احکامات کی اطاعت اور کسی بھی حالت میں اسکی نافرمانی نا کرنے کا ایک بہترین نمونہ عمل بن نا کہ لوگ ان کی مثل عمل کریں انکی تقلید اور پیروی کریں.

٥) لوگوں کے بیچ عدل کے ساتھ حکومت کرنا اور جو بھی احکامات اس نے نازل کیے ہوں، جس سے کی لوگوں کے بیچ ایک مثال قائم ہو سکے کہ دوسروں کے بیچ کیسے فیصلہ کرنا ہے.

٦) انسانی معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی رشتوں کی اساس اساس اور طریقہ کار کی تشریح کرنا(بلکل اسی طرح جس طرح الله نے سکھایا ہو)، اور اپنی زندگی میں بہترین طور پر ان کو عملی جامہ پہنانا.

٧) لوگوں کو قوانین دین الہی، حکمت اور دیگر باتوں کی تعلیم دینا جیسا کہ الله کی طرف سے ان تک پہنچا ہو.

انبیاء، مرسلین، اوصیاء اور آیمہ ع کی ذمہ داریوں پر جلد اور مختصراً نظر کرنے کے بعد، آپ کیا سوچتے ہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں جن سے ان کو پاک ہونا چاہیے جس سے کہ وہ اپنے کاموں کو بخوبی انجام دے پائیں؟

اور اگر ان کی ذمہ داریاں اہمیت کے اعتبار سے سب سے اونچے درجے کی ہوں، اور یقیناً ایسا ہی ہے چونکہ یہ انسان کے مستقبل کی بات کرتی ہیں، انسان کا دنیوی اور اخروی مستقبل. تب اس سے زیادہ اہم کچھ بھی نہیں ہو سکتا.

اس وجہ سے ان کو ملی ذمہ داریوں اور کاموں کے لیے یہ نہایت ضروری اور واجب ہے کہ ان کی کامیابی سو فیصد ضمانت کے ساتھ ہو. اور اس کے لیے ان حصتیوں کا طاہر(پاک) ہونا ضروری ہے ان چیزوں سے جو ان کی ناکامی کا باعث اور کامیابی کے بیچ حائل ہو سکتی ہیں. علاوہ ازیں ان کی طھارت سو فیصد ہونی ہی چاہیے.

اب اگر یہ حصتیاں الله کے لیے ان ذمہ داریوں اور کاموں کو انجام دیتی ہیں اور اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، تو منطقی طور پر یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ(الله) خود مطھِر ہو اور اس صورت میں طھارت کے سو فیصدی انجام پانے میں کوئی شک نہیں رہے گا.

ایسی طھارت ہمیشہ قائم رہنے والی ہوگی، جب تک نبی، رسول، وصی، اور امام اپنے اپنے منصب پر فائز رہیں ،. اور اگر طھارت باقی اور جاری ہے، تب یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ عاصِم موجود ہو طھارت کی حالت کو بنایے رکھے، جس سے عصمت(طھارت کا تحفظ) کے وجود کی طرف اشارہ ہوتا ہے.

جب تک مُطَھِر الله ہے منطقی طور پر یہ لازم ہے کہ عاصِم بھی وہی ہو. اس بنا پر وہ اپنی صلاحیت مطلق سے ہی پاک کرے گا اور پاکیزگی کی حفاظت بھی کریگا. اس لئے یہاں طھارت اور عصمت سو فیصدی یقینی ہے چونکہ مُطَھِر اور عاصِم الله ہی ہے.

اس وجہ سے طاھر(پاکیزہ) افراد معصوم ہوں گے چونکہ انکی عصمت کی ضمانت بھی ساتھ میں ہے..

اب ہم سوال کی طرف لوٹتے ہیں : وہ کیا چیزیں ہیں جن سے الله کے منتخب نمائندوں کو پاک ہونا چاہیے اور ان کی حفاظت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دے سکیں؟ ہم یہاں پر پوری توجہ سے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہے.

اگر ہم ان سات ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کریں جن کا ذکر پہلے کیا گیا ہے، ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان سب میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے “حکم الله” . اس واسطے تطھیر اور عصمت ان چیزوں سے ہونا چاہیے جو اس میں دخل اندازی کریں، رکاوٹیں کھڑی کریں.

حکم ایک فعل ہے جس کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے اطاعت یا نافرمانی. اگر حکم کا جواب اطاعت ہو، تو وہ فعل اور حکمت پائے تکمیل کو پہنچے گا. اور اگر جواب نافرمانی کی صورت میں ہو تب وہ حکم انجام تک نا پہنچے گا. جو بھی الله کے حکم کے خلاف گیا وہ اسکی مخالفت اور نافرمانی کا مرتکب ہوا.

اگر ہم اس نکتے پر توجہ دیں اور سمجھیں تو ہمارے لئے نتیجے تک رسائی آسان ہے کہ آخر وہ کون سی ضروری چیز ہے جس سے انبیاء، مرسلین، اوصیاء اور آیمہ ع کو پاک ہونا چاہیے : احکامات الہی کی نافرمانی.

الله نے قرآن کریم میں بالکل یہی ذکر کیا ہے،
بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ.
بلکہ وہ فرشتہ تو اس کے بندے ہیں
جو بات کرنے میں بھی اس سے سبقت نہیں کرتے اور اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں.
(سورۃ 21، آیت 26-27)

تو، الله سبحانه وتعالى کا ان کے لئے گواہی دینا کہ یہ نافرمانی کرنے سے عاجز ہیں طھارت کے معنی کے برابر ہے اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ مطھِر ہے. یہ عصمت کی موجودگی کی طرف بھی اشارہ کر رہی جس سے اسکے عاصِم ہونے کا بھی پتا چل رہا چونکہ آیت میں فعل کی جو گردان استعمال ہوئی ہے وہ حالِ جاری ہے. علاوہ ازیں، یہ الله کی طرف سے ہے جس کا مطلب دوام کا ہونا ہے. چنانچہ، طھارت اور عصمت کسی بھی بات میں الله کی نافرمانی کرنے سے ہوگی.

اگر ان کی پہلی ذمہ داری الله کے نازل کردہ احکامات اور فرامین کو پہنچانا ہے، تب یہ منطقی طور پر لازم ہوگا کہ ان کو جھوٹ، بےایمانی، دھوکےبازی، بھول چوک سے پاکیزگی حاصل ہو. بھول چوک سے یہاں مراد پیغامات کا مواد اور انکی تفصیلات کا بھولنا ہے، نہ کہ عام بھول چوک جو زندگی میں پیش آتی ہیں جیسے کہ نبی موسیٰ علیہ السلام کا جناب خضر ع سے کہنا :
قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ
موسی علیہ السلام نے کہا جو بھول ہو گئی اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کریںُ
(سورۃ 18، آیت 73)

یہ عام انسانی بھول چوک کی مثال ہے اور عصمت کے موضوع سے متعلق نہیں.

(مترجم : یہاں پر ہم یہ واضح کر دیں کہ ہم نبی کریم محمد صلى الله عليه وسلم اور آیمہ ع کے تمام انبیاء اور اولیاء سے افضلیت کے قائل ہیں اور ان سے عام بھول چوک ہونے کے بھی قائل نہیں)

اگر ان کی دوسری ذمہ داری لوگوں کو پیغامات اور احکامات الہی کی اطاعت اور پیروی کرنے کی طرف دعوت دینا ہے تو منطقی لحاظ سے ضروری ہوگا کہ وہ منفی اور نامناسب رویہ اور ہر وہ چیز جو اخلاق حسنہ، اچھے رویہ کے برخلاف، اور بری عادتوں سے پاک و پاکیزہ رکھا جائے. اس واسطے کہ لوگ انہیں پسند کریں، ان سے قریب ہوں اور انہیں بطور الہی رہنما قبول کریں جس سے کے وہ لوگوں احکامات الہی کی اطاعت کی طرف دعوت دے سکیں.

اگر ان کی تیسری ذمہ داری احکامات الہی کی اطاعت کرنا ہے اپنے انفرادی اور اجتماعی کاموں میں جو ان کو سونپے گئے ہیں، تب منطقی طور پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ہر طرح کی الله کی نافرمانی سے پاکیزہ ہوں، اس سے مطلب نہیں کی ان کو کس کام پہ منتخب کیا گیا ہے اگر چہ یہ کام عجیب، مشکوک یا دنیا والوں کو غلط ہی لگتا ہو، اور اس سے بھی مطلب نہیں کہ اس کام کہ بدلے انہیں کتنی مصیبتیں جھیلنا پڑیں. اس بنا پر یہ بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ یہ حصتیاں سستی، بیزاری، سادگی، لاپرواہی، بےتوجہی، کم ہمتی، بیوقوفی، بھولنے کی عادت، کمزوری، پست اراددگی، حکمت اور بصیرت کی کمی سے پاک ہوں.

اگر انکی چوتھی ذمہ داری ایک بہترین مثال اور نمونہ عمل بننا ہے کہ لوگ ان سے قوانین الہی کی تاکید کیسے کی جائے یہ سمجھ سکیں، اس صورت میں لازم ہے کہ یہ حصتیاں حماقت، کمتری، آرزوؤں، شرمناک نسل، جسمانی نقص، بدصورت دکھاؤ، نادانی اور ہر وہ چیز جس سے ان کے احترام میں کمی آتی ہو پاک رہیں.

اگر ان حصتیوں کی پانچویں ذمہ داری لوگوں کے بیچ الله سبحانه وتعالى کے مطابق عدالت کے ساتھ حکومت کرنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ یہ حصتیاں خود پسندی، ناانصافی، تکبر، فیصلہ کرنے میں جلدبازی، احکامات الہی سے انحراف، اپنی خواہشات کی پیروی، فیصلہ کرنے میں ذاتی رائے، ذاتی نظریات کا استعمال(سوائے اسکے کی الله نے ایک حد قائم کی ہو)، چاپلوسی، منافقت، غفلت، عدم علم، رشوت خوری، دل کی کمزوری، عدم حکمت اور تجربہ جیسی باتوں سے پاک رکھے جائیں.

اگر ان کی چھٹی ذمہ داری یہ ہے کہ قوانین اور بنیاد کا تعین کریں جن پر انسانی معاشرے کو تشکیل دیا جائے اور یہ کام انجام دینے کے لیے اگر وہ قابل ہوں تو منطقی طور پر ضروری ہے کہ وہ ان باتوں سے پاک ہوں جیسے : ضروری سیاسی اور جنگی ہنر کی کمی، تقریر کرنے میں جوش و بلاغت کی کمی، ارتکاز کی کمی، جسمانی خواہشات اور دنیاوی زر زیور سے محبت، سنجیدگی کی کمی، دیانت داری کی کمی، لوگوں کے سامنے کمزوری کا احساس، شیخی بازی، خود ستائش، تیزفہم، علم اور تجربہ میں کمی، عقلمندی، ہوشیاری حکمت، بےپرواہی، منچلا پن، ہمت کی کمی، مقابلہ کی کمی.

اگر ان کی ساتویں ذمہ داری لوگوں کو علم و حکمت اور قوانین کی تعلیم دینا ہے تو یہ لازم ہے کہ جن باتوں کا پہلے ذکر ہوا ہے خاص طور پر نادانی، حماقت، بےصبری، حلم کی کمی، بصیرت کی کمی، سچ کو مخفی رکھنا، دنیا کی زیادہ پرواہ کرنا، الله کی یاد سے غافل ہوجانا، عبادت کرنے میں کمی، بےفائدہ اور نا ختم ہونے والی باتیں کرنا، فصاحت و بلاغت کی کمی، بڑھا چڑھا کر بولنا، پریشان خیالی، ابہام میں رہنا، ذیادہ الجھاؤ اور پیچیدگی ان سب سے پاک رہیں.

تاہم یہاں جو بہت اہم چیز ہے وہ الله کی نافرمانی کے برخلاف، طھارت اور عصمت ہے جس کے لیے الله نے حکم دیا ہے. ذہن اور انسانی منطق کے استعمال سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ ان رہنمایان الہی کو مکمل طور سے طاہر(پاک) اور الله کی طرف سے ہمیشہ عصمت کا حامل ہونا چاہیے جو کہ مُطَھِر اور عاصِم دونوں ہی ہے. ایسا اس لیے کیونکہ رہنمایان الہی کو جو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں انکا کامیابی سے پورا کیا جانا ضروری ہے. آخر کار انسان کا دنیوی اور اخروی مستقبل ان کی ذمہ داریوں کے کامیابی سی پورا کیے جانے پر منحصر ہے.

محتاج دعا عادل عباس

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s