توحید در عبادت : کیا غیر طبعی اسباب سے فائدہ اٹھانا شرک ہے؟

n2638741-3759281مادی اور طبیعی اسباب سے فائدہ اٹھانا تو کسی بھی ملت اور کسی بھی گروہ کے درمیان شرک نہیں ہے اور انسانوں کی زندگی کی اساس و بنیاد کو ایسے عوامل ہی تشکیل دیتے ہیں لیکن وہابی حضرات غیر طبیعی اور غیر مادی اسباب سے تمسک کو ایک قسم کا شرک قیال کرتے ہیں، انہوں نے یہ تصور کر لیا ہے کہ ان کی تاثیر کا اعتقاد رکھنے سے ان کی الوہیت کا اعتقاد لازم آتا ہے اور اس قسم کے اعتقاد کے ساتھ ان سے درخواست کرنا اور انہیں پکارنا ان کی عبادت و پرستش ہے.

ابوالاعلیٰ مودودی اپنی کتاب المصطلحات الاربعہ(١) مصر میں لکھتا ہے :

جس وقت انسان کو پیاس لگتی ہے اگر وہ اپنے خادم کو پکارے اور اسے یہ حکم دے کہ وہ پانی لے آئے، اس کہنے کو دعا نہیں کہا جا سکتا. اسی طرح یہ بھی نہیں کہتے کہ اس نے اپنے خادم کو خدا بنا لیا ہے، کیونکہ وہ اپنے مطلوب کو علل و اسباب طبیعی کے ساتھ طلب کر رہا ہے لیکن اگر یہ شخص اولیاء میں سے کسی ولی کی پناہ لے اور اس سے درخواست کرے کہ وہ اس کی گرفتاری اور مصیبت کو برطرف کرے، تو اس نے اسے اپنا “الہ” بنا لیا ہے گویا اسے سننے والا اور دیکھنے والا سمجھ لیا ہے اور وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے لیے عالم اسباب پر ایک قسم کا تسلط ہے. جو اسے توانا بناتا ہے کہ وہ اسے پانی پہنچائے یا بیماری سے شفا بخشے، خلاصہ یہ ہے کہ انسان کے خدا کو پکارنے اور اس سے استغاثہ کرنے کی علت یہ ہے کہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ایسے تسلط کا حامل ہے جو قوانین طبیعت اور قوی پر، جو مادی قوانین کے نفوذ کی حدود سے باہر ہیں حاکم ہے.

اس مولف کے بارے میں جو کئی علل و اسباب کی بنا پر وہابیوں کے نظریہ کے زیراثر قرار پایا ہے، دو موارد میں گفتگو ہے.

١: جب کسی شخص کی نظر میں کسی چیز کے دو اسباب ہوں ایک طبیعی اور دوسرا غیر طبیعی اور وہ شخص علت طبیعی سے ناامیدی کے بعد اپنے ہدف اور مقصد کے لیے علت غیر طبیعی کی طرف رجوع کرے اور اس سے اپنی کامیابی کے لیے مدد طلب کرے تو کیا ایسے عمل کو شرک کہیں گے اور اس کی درخواست کو عبادت کا نام دیں گے؟

٢: یہ اعتقاد کہ ولی اس غیبی تسلط کا حامل ہے جو قوانین طبیعت پر حاکم ہے، کیسا ہے؟ اس مؤلف نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں اسی چیز پر تکیہ کیا ہے اور ہم اس کے بارے میں آئندہ گفتگو کریں گے، اس وقت ہم اس کے کلام کے پہلے حصہ پر بحث کرتے ہیں.

اگر کوئی شخص بطور حق اور صحیح طور پر یا خطا اور غلطی سے یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ اس کے مطلب کے حصول کے لیے دو سبب ہیں، ایک طبیعی و مادی جنبیہ اور دوسرا غیر طبیعی جنبہ، اگر طبیعی سبب فراہم ہو تو اسے اسی کے ذریعہ اپنا مطلب حاصل کرنا چاہیے اور جب یہ صورت نہ ہو تو وہ اپنے مطلوب کا حصول غیر طبیعی طریقہ سے بھی کر سکتا ہے، جو خاص مقدمات اور شرائط کے ساتھ اسے مطلوب تک پہنچاتا ہے. اب اگر کوئی شخص اس نیت اور مقصد کے ساتھ جس کے ذریعہ علت طبیعی کی طرف رجوع کرتا تھا اور اس کا اعتقاد یہ تھا کہ خدا نے یہ اثر اسے دیا ہے. اسی نیت کے ساتھ غیر طبیعی علت کی طرف بھی رجوع کرے اور اس کا عقیدہ یہ ہو کی خدا نے مثلاً ایک مشت خاک میں خاص حالات و شرائط میں شفا قرار دے دی ہے یا خدا نے حضرت مسیح (ع) کو یہ قدرت و طاقت دی ہے کہ اگر وہ چاہے تو خدا کے اذن سے بیمار کو شفا بخش سکتا ہے اور مردہ کو زندہ کر سکتا ہے.

: اگر کوئی شخص علل و اسباب طبیعی سے مایوس ہونے کے بعد اپنے سامنے امید کا ایک دریچہ کھلا ہوا دیکھے اور کربلا کی خاک یا دم مسیح ع کی طرف رخ کرے تو کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ اس نے خاک شفا اور مسیح ع کو اپنا “الہ” بنا لیا ہے حالانکہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ خدا نے اس خاک کو یہ اثر بخشا ہے اور مسیح ع کو جو کہ عبد اور بندے ہیں اس قسم کی قدرت عطا کی ہے، اب اگر اس اعتقاد کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے، غیر طبیعی اسباب کی طرف رجوع شرک ہو، تو پھر اسباب طبیعی کے ساتھ تمسک کو بھی شرک ماننا پڑے گا.

آپ اس کی اس عقیدہ کو (کہ خدا نے “سیدالشہدا” کی خاک میں شفا قرار دی ہے یا مسیح ع کو اس قسم کی قدرت دی ہے) باطل اور غلط قرار دے سکتے ہیں اور اس سے دلیل اور شہادت طلب کر سکتے ہیں کہ خدا نے امام کی خاک میں ہرگز شفا قرار نہیں دی ہے، یا مسیح ع کو ایسی طاقت اور قدرت نہیں دی ہے لیکن آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ آپ اس کو اس عقیدہ کی بنا پر مشرک سمجھیں، کیونکہ اس کی نظر میں طبیعی اور غیر طبیعی سبب سے استفادہ کرنے کی بنیاد ایک جیسی ہے اور اس کا اعتقاد یہ ہے کہ وہی خدا جس نے سورج کو تابانی جاند کو درخشندگی اور آگ کو سو زندگی دی ہے اور شہد میں شفا کا اثر قرار دیا ہے، اسی نے خاک شفا اور حضرت عیسٰی کو یہ قدرت اور لطف عنایت فرمایا ہے، بعینہ یہی مطلب ارواح مقدسہ اور اولیاء خدا سے حاجت طلب کرنے کے بارے میں ہے جن کے بدن تو مٹی میں چھپے ہوئے ہیں، لیکن ان کی ارواح عالم غیب میں زندہ ہیں اور سب کا حکم ایک ہی جیسا ہے.

استاد بزرگوار حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی دام ظلہ کا ایک مضمون اس بارے میں ہے جس ہم اختصار کے ساتھ یہاں نقل کرتے ہیں. اگر ہم کسی شخص کو خدائے جہاں سمجھیں یا اسے تاثیر میں مستقل جانیں اور اس عقیدہ کے ساتھ اس سے حاجت طلب کریں تو پھر ہم شرک سے دوچار ہوئے ہیں لیکن اگر ہم اس سے کسی اور طریقہ سے حاجت طلب کرتے ہیں اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ خدا جو ہر چیز پر قادر ہے اس نے اس مٹی میں ایک قربان ہونے والے کی قربانی کی قدردانی کے طور پر، جس نے دین کی راہ میں ہستی اور وجود تک کو قربان کر دیا تھا، شفا قرار دی ہے، تو ہم کسی بھی قسم کے شرک کے شرک کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں.

اگر کوئی خدا پرست یہ کہے : وہی خدا جس نے دوائیوں میں شفا کا اثر رکھا ہے اسی خدا نے ایک تھوڑی سی مٹی میں جس پر فداکاری مظلوم کا خون بہا ہے، وہی اثر اور شفا قرار دے دی ہے (تا کہ لوگوں کی آرزوؤں کی نگاہ مرتے دم تک اس سے نہ ہٹے) اگر وہ چاہے تو اس خدائی دوا کے ساتھ شفاء دے اور اگر نہ چاہے تو بیمار ایک پرمحبت دل کے ساتھ اپنے خدا سے اور ایک امیدوار آنکھ کے ساتھ عالم کے پیدا کرنے والے کی مقدس بارگاہ میں نازل ہو) تو اس کی درخواست کو ہرگز شرک نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس سبب کو جس کے ساتھ اس نے تمسک کیا ہے “الہ” سمجھا جا سکتا ہے.

: ہم اسلام کے بلند معارف میں پڑھتے ہیں “خداوند سبب ساز اور خدا سبب سوز” اس جملہ کا کیا معنی ہے، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ خدا کبھی ایک چیز کو ایک اثر بخش دیتا ہے اور کبھی اس سے اثر کو سلب کر لیتا ہے.

کبھی خدا سیاہ مٹی کو ایسا اثر بخش دیتا ہے کہ “وہ اس بچھڑے میں جو بنی اسرائیل کے زیورات سے بنایا گیا تھا” آواز پیدا کر دیتی ہے جیسا کہ ہم سامری کے واقعہ میں پڑھتے ہیں.

حضرت موسیٰ نے سامری سے کہا تو نے کیا کیا تھا کہ بچھڑے میں زندگی آگئی تو اس نے کہا :

بصرت بما لم يبصروا به فقدت قبضت من أثر الرسول فنبذتها(طه ٩٦)

میں نے تھوڑی سی مٹی رسول(جبرئیل) کے پاؤں کے نیچے کی اٹھائ اور “گوسالہ نما میں ڈال دی تو وہ زندہ ہو گیا.”

خداوند عالم نے اس مٹھی بھر خاک میں جس سے ایک زندہ نے عبور کیا تھا یہ قدرت بخشی ہے، تو اب اگر خدا اس خاک کو، جس پر ابدی اور جاودانی زندوں(شہدان راہ خدا) کا خون بہایا گیا ہے، اس قسم کا اثر بخش دے اور اس میں خاص حالات و شرائط کے ساتھ شفاء قرار دیدے، تو تعجب اور حیرت کی کوئی بات نہیں ہے اور اس قسم کی سبب کے ساتھ تمسک پکڑنا عین توحید ہے.

سبب ساز خدا نے حضرت یوسف علیہ السلام کے پیراہن میں یہ اثر رکھا تھا کہ جس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسے اپنی آنکھوں پر پھیرا تو ان کی بینائی پلٹ آئی، جیسا کہ فرماتا ہے :

فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا

جس وقت یوسف کا پیراہن اپنے چہرے پر ڈالا تو اس کی بینائی لوٹ آئی. (سورۃ یوسف ٩٦)

اس بنا پر ان اسباب سے فائدہ اٹھانا، چاہے وہ غیر طبیعی اور غیر مادی ہوں توحید کی ساتھ منافات نہیں رکھتا کیا ان نمونوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو قرآن میں وارد ہوئے ہیں، یہ بات صحیح ہے کہ ہم غیر طبیعی اسباب سے فائدہ اٹھانے کو باعث شرک اور غیر خدا کی عبادت سمجھیں.

ارواح مقدسہ سے توسل اور زندہ جاوید أرواح سے مدد طلب کرنا، ایک قسم کا غیر طبیعی اسباب سے تمسک ہے، اب رہی یہ بات کہ ان میں مدد کرنے کی طاقت اور استغاثہ کرنے والے کا جواب دینے کی قدرت ہے یا نہیں، وہ سردست ہمارے بحث نہیں ہے، اس وقت جو چیز زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ کیا غیر طبیعی اسباب سے اس قسم کا توسل اور فائدہ اٹھانا، توحید در عبادت اور شرک سے پاک اور منزہ ہونے کے ساتھ سازگار ہے یا نہیں.

اگر کوئی شخص (صحیح یا غیر صحیح) علل و اسباب کا معتقد ہو جائے کہ اسباب طبیعی و مادی کے بیکار ہو جانے کی صورت میں خدا نے ان أرواح مقدسہ کو اس قسم کی قدرت عطا فرمائی ہے کہ وہ خداوند عالم کے اذن و اجازت سے کسی درد مند کی فریاد کو پہنچیں اور اس کی غیب کے طریق سے مدد کریں تو اس قسم کے عقیدہ کو ہرگز شرک اور دوگانہ پرستی نہیں کہا جاسکتا.

.

آیت الله جعفر سبحانی

تفسیر موضوعی

اگلے حصے میں کیا سبب کی موت و حیات، شرک و توحید کی سرحد ہے؟

تحریر و پیشکش :عادل عباس

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s