طھارت و عصمت در ذات انبیاء، اوصیاء اور آیمہ ص، قسط ٢

طھارت و عصمت در ذات انبیاء، اوصیاء اور آیمہ ص

سوال ١ برائے تحقیق

تحقیق کا آغاز اس سوال سے کرتے ہیں:

طہارت کیا ہے؟ اور عصمت کیا ہے؟

طہارت، لغوی معنی کے اعتبار سے، ایسے عمل کو کہا جاتا ہے جو کسی شخص سے کسی ناپسندیدہ یا نقصان دہ چیز کی صفائی(دور) کرے جس سے یہ خدشہ ہو کی وہ آلود چیز کو گندا کر دیگی. جہاں تک مذہبی و دینی تعبیر کی بات ہے، اس سے مراد جسم، روح، اور قلب کی طہارت و صفائی ہے جن چیزوں سے الله سبحانه وتعالى نے پاک رہنے کا حکم دیا ہے.

ہم خود اپنی یا دوسروں کی طھارت کا عمل انجام دے سکتے ہیں، اسی طرح ہم پر دوسرے یہی عمل انجام دے سکتے ہیں. طھارت کی لیاقت اور اس شخص کی قابلیت جو اس عمل کو انجام دے اسکے بیچ ایک مضبوط ارتباط پایا جاتا ہے، جس شخص کو مطهر کہا جاتا ہے. یہ شخص طھارت کا عمل انجام دینے میں جس قدر علم، تجربہ اور اہلیت رکھتا ہوگا، اتنی ہی زیادہ مکمل طھارت کریگا. دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے، کی اگر مطھر کی لیاقت پچاس فیصد ہے، تو ہم اندازہ کر سکتے ہیں تطھیر کا عمل بھی زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد ہی ہوگا.

ہمارے پاس تین الفاظ ہیں: مطھر(ھ زیر) ، مطھر(ھ زبر) اور تطھیر. مطھر(ھ زیر) اس شخص کو کہتے ہیں جو طہارت کا عمل انجام دیتا ہے، جبکہ مطھر(ھ زبر) اس شخص یا چیز کو کہتے ہیں جسکے طھارت کا عمل انجام دیا جائے اور تطھیر اس عمل کا نام ہے جسکی وجہ سے طھارت انجام پاتی ہے.

مثال کے تور پر، اگر آپ اپنے کپڑوں کو دھلنے کے لئے دھوبی کو دیں، تو آپکے کپڑے مطھر(ھ زبر) اور دھوبی مطھر(ھ زیر) ہے اور وہ طریقہ یا عمل جو دھوبی ان کپڑوں کی صفائی کے لیے استعمال میں لاتا ہے وہ تطھیر کا عمل ہے. یہاں منطقی طور پر کہا جائے تو آپکے کپڑوں کی صفائی مطھر(ھ زیر) کی قابلیت اور صلاحیت پر منحصر ہے.

جہاں تک طھارت کے روحانی معنی کی بات ہے، آپ خود پر بھی یہ عمل انجام دے سکتے ہیں یا کوئی دوسرہ آپ پر، اور انکے بیچ جو رشتہ ہے انکے دستوروں پر بھی یہی منطق لاگو ہوگی، جیسا کی پہلے ذکر ہوا ہے.

تطھیر روحانی کی دو قسمیں ہیں :

١) جسمانی (ظاہری) صفائی و طھارت جو کہ مادی چیزوں سے متعلق ہے جن کو ہم دیکھ کر یا چھو کر محسوس کر سکتے ہیں، جیسے کپڑا یا جسم.

٢) طھارت روحانی جو اخلاقی اقدار سے متعلق جن کو دیکھ کر یا چھو کر محسوس نہیں کر سکتے، جیسے کی قلب، نفس یا دماغ.

اس اعتبار سے دوسرے قسم کی طھارت کا پایہ تکمیل تک پہنچانا نہایت مشکل کام ہے چونکہ آپ ایک ایسی چیز کو طاھر(پاک) کرنے کی کوشش کر رہے جو دیکھ و چھوکر محسوس نہیں کیا جا سکتا. یہ عملِ تطھیر غیر مخصوص ہے اور ممکن ہے کہ جو شخص یہ عمل انجام دے اسکا تجربہ اور صلاحیت محدود ہو. ایسا اس لیے کیونکہ مطھِر (ھ زیر) کی قابلیت اور تجربہ اسل استاد کے تجربہ اور صلاحیت پر منحصر ہے.

تو ظاہر ہے کہ اگر اسل استاد میں تجربہ اور صلاحیت کا فقدان ہے تو مطھر(ھ زیر) میں بھی یہی کمی ہوگی. اور اگر استاد کے عمل اور صلاحیت میں کمی ہے تو شاگرد میں بھی یہ کمی ہوگی جو اس استاد سے سیکھ رہا. اس طرح کی تطھیر جسے دیکھ کر یا چھو کر محسوس نہیں کیا جا سکتا آپ خود اپنے آپ پر انجام دے سکتے ہیں جیسے اپنے دل، دماغ، روح اور نفس کو پاکیزہ کرنا عبادات و ذکر الٰہی سے(نماز، روزہ، دعا، حصول علم، نیک کام وغیرہ). دوسرے بھی طھارت کا یہ عمل آپ پر انجام دے سکتے ہیں، جیسے علماء، دینی مدارس نفسیات کے استاد.

جہاں تک عصمت کے معنی کی بات ہے، اس کا آسان سا مطلب بچانا اور حفاظت کرنا ہے. یعصم حفاظت کے عمل کو کہتے ہیں، جبکہ عاصِم اس شخص ہا چیز کو کہتے ہیں جو حفاظت کرے. معصوم وہ شخص جو عاصِم کے ذریعہ تحفظ پایا ہو، جسکی عصمت کی صلاحیت سو فیصد ثابت ہو.

اب اگر کوئی شخص تحفظ چاہے لیکن عاصِم کی طرف سے حفاظت کی منظوری ملنا ثابت نہ ہو تو وہ شخص معصوم نہیں کہلائے گا. بلکہ وہ مُعتصِم کہلائے گا چونکہ وہ نہیں جانتا کہ عاصِم اسکی حفاظت کرے گا یا نہیں یا عاصِم حفاظت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں.

علاوہ ازیں، اگر شخص مسلسل اپنے تحفظ کے لیے کوشش کرتا رہے اور اسے پانے کے لئے خوب جدوجہد کرے پھر بھی یہ ثابت نہ ہو، اس کو مُستعصم کہتے ہیں. چنانچہ ہر مُعتصِم، مُستعصِم نہیں ہوتا اور نا ہی ہر مُستعصِم یا مُعتصِم معصوم ہوتا ہے. ایسا اس لیے کیونکہ معصوم صرف وہ ہی شخص ہے جس کی طھارت کا عمل عاصِم کی طرف سے مکمل طور پر سو فیصد درست انجام پایا ہو.

اگر ہم قرآن میں موجود لفظ عصمت(اور اس کے مأخوذ) کا تجزیہ کریں، تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں جو مدرجہ ذیل ہے:

١) آیت البلاغة
وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ
اور اللہ آپ کی لوگوں (کے شر) سے حفاظت کریں گا
(سورۃ 5، آیت 67)

اس آیت میں، الله سبحانه وتعالى عاصِم ہے، چونکہ وہ عاصِم ہے، اس کی حفاظت کی صلاحیت میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا. اس معاملے میں نبی کریم (ص) معصوم سمجھے جائینگے چونکہ عملِ طھارت خالق کائنات کی طرف سے منظور و انجام پایا ہے.

٢)
قَالَ سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاء
اس نے کہا میں ابھی کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچائے گا
(سورۃ 11، آیت 43ِ)

اس آیت میں عاصِم پہاڑ ہے، جبکہ فرزند نوح علیہ السلام، مُعتصِم ہے، چونکہ پہاڑ کی حفاظت کرنے کی صلاحیت مشکوک ہے اور حقیقت میں یہ ثابت بھی ہے جیسے آگے آیت میں ذکر ہوا ہے

وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ
اور پھر ان کے درمیان موج حائل ہو گئی پس وہ ڈوبنے والوں میں سے ہو گیا.

٣)
وَلَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَم
بے شک میں نے اس پر ڈورے ڈالے اور پھسلانے کی کوشش کی، مگر وہ بچا ہی رہا.

اس مثال میں، عزیز کی زوجہ کے مطابق یوسف علیہ السلام، مُستعصِم ہیں، چونکہ اس نی گواہی دی ہے کہ یوسف علیہ السلام نے بہت کوشش کی وہ بچ سکیں الله کی مدد سے. لیکن اس کو یوسف علیہ السلام کے خدا(عاصِم) پر ایمان نہیں تھا، اسی وجہ سے وہ اسکی(الله، عاصِم) صلاحیت پر شک کرتی تھی، تو اس نے یوسف علیہ السلام کو مُستعصِم کہا اور یہ ہی اس بات کی گواہی ہے اس کی طرف سے کہ یوسف علیہ السلام نے اسکی بات نا مان نے پر اصرار کیا اور وہ(ع) اس سے الله کی پناہ چاہتے تھے.

٤)
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا
اور سب مل کر الله کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو
(سورۃ 3، آیت 103)

یہاں، الله ہم کو حکم دے رہا کی اسکی پناہ(مدد، حفاظت) طلب کریں، جس کو حبل الله یعنی خدا کی رسی سے تشبیہ دیا گیا ہے، اگر اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اس کی بارگاہ سے پناہ طلب کریں، تو ہم معتصمين میں شمار ہونگے لیکن معصوم نہیں.

یہ اس وجہ سے نہیں کی الله سبحانه وتعالى کی حفاظت کرنے کی صلاحیت مشکوک ہے. بلکہ اس لیے کیونکہ ہم کو نہیں معلوم الله سبحانه وتعالى ہماری کمیوں کی وجہ سے ہماری حفاظت کرے گا یا نہیں. یہ وجہ ہے کہ ہر مُعتصِم جو الله کی رسی کو تھامے ہوئے ہو معصوم شمار نہیں ہوگا، سوائے اس کے جس کے لئیے الله سبحانه وتعالى ارادہ کرے. دوسری حالت میں وہ مُعتصِم ہی شمار ہوگا جو الله سبحانه وتعالى کے رحم اور منظوری کا طلبگار ہے اپنی حفاظت کے لئیے.

اب ہم ان دو الفاظ طھارت اور عصمت کی معنی کے بیچ رشتہ کو پرکھتے ہیں :

اب تک، ہم نے وضاحت کی کہ طھارت، صفائی اور پاکیزہ کرنے کا عمل ہے، جبکہ عصمت، پاک و طاھر چیز کی حفاظت کرنا ہے گندی یا خراب ہونے اور پاکیزگی کی حالت کو زائل ہونے سے(جو کی تطھیر کے عمل کے بعد حاصل ہوئی ہو).

اس لئیے، عصمت عمل ہے مُطَھَر کی پاکیزگی کی حفاظت کا(جس کو مُطَھِر نے انجام دیا ہو). مُطَھِر پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ عاصِم کوشش کرتا ہے کی پاکیزگی کی حالت غیر متغير اور قائم رہے، اگر عاصِم نا ہو تو پاک چیز پاک اور صاف نہیں رہے گی.

اگر ہم کہیں کہ کسی جگہ ایک چیز رکھی ہے جو ہمیشہ صاف رہتی ہے، تو ہم کو ایک عاصِم کی موجودگی کو منطقی طور پر ماننا پڑے گا کیونکہ عاصِم ہی وہ ہے جو اس چیز صفائی کو ہر وقت قائم رکھتا ہے. اس اعتبار سے یہ چیز معصوم شمار ہوگی کیونکہ اس چیز کی قابل اور باصلاحیت عاصِم کی طرف سے مسلسل حفاظت کی جارہی ہے.

طھارت اور عصمت دو عمل ہیں جو ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے، اگر ہم کسی چیز کی پاکیزہ حالت قائم رکھنا چاہتے ہیں. پھر ارض کرتا چلوں کی جتنا زیادہ علم اور صلاحیت عاصِم میں ہوگی، اتنی موثر عصمت ہوگی، جیسا کی عملِ طھارت اور مُطَھِر کے مسئلہ میں ہے.

مثال کے طور پر، ایک سڑک صاف کرنے والا مُطَھِر شمار ہوگا (چونکہ وہ سڑک کی صفائی کرتا ہے)، جبکہ ایک پولیس کا سپاہی عاصِم شمار ہوگا (جو گندگی کو پھیلنے اور پاکیزگی کو زائل ہونے سے روکے گا جو مطھِر کی دی ہوئی ہے). ہر کسی کو زائل نا ہونے والی طھارت و پاکیزگی کو پانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانا پڑتی ہیں. اس بنیاد پر عصمت کے لیے پہلے طھارت کا ہونا ضروری ہے، اور اس کا برعکس ہونا ممکن نہیں.

محتاج دعا عادل عباس

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s