طھارت و عصمت در ذات انبیاء، اوصیاء اور آیمہ، قسط ١

طھارت و عصمت در ذات انبیاء، اوصیاء اور آیمہ ص

دیباچہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نبی، رسول، وصی، اور الہی رہنماؤں کی طھارت اور عصمت کا تصور تمام اسلامی مکاتب فکر کے بیچ ہمیشہ بحث کا موضوع رہا ہے. ان میں سے ہر ایک الہی منصب کی اپنی خصوصی ذمہ داریاں ہیں، تاہم، ان سبھی منصب میں ایک بات عام ہے اور وہ ہے الہی انتخاب بطور نمائندہ خدا لوگوں کے لئے.

بنی نوع انسان کے لئے جو لوگ ان اہم منصب کے حامل ہیں، انکو کسی بھی طرح کے گناہ، غلطی، بھول چوک، نامناسب کام کے ارتکاب سے پاک ہونا چاہیے. کیونکہ ،نبی، رسول اور وصی بھیجے ہی اس لیے گئے ہیں کی لوگوں کے لئے سہی معیار رکھ سکیں اور بہترین نمونہ عمل بنیں کی لوگ انکی پیروی کریں.

اس لئے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تمام مومنین کے لیے ارشاد فرمایا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ
“اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں”
(سورۃ النساء، آیت 59)

یہ آیت اشارہ کرتی ہے نبی و امام کے اعلیٰ اختیار کو جو انکو دیے گئے کیونکہ وہ ہر طرح کے گناہوں و غلطیوں معصوم و آزاد ہیں. ورنہ اللہ ہم کو ہرگز انکی بے چو چرا پیروی کا حکم نہیں دیتا.

اگر ان رہنمایان الہی کو اس حفاظتی حصار کے بغیر تصور کیا جائے، تو کوئی ضامن نہیں اسکا کی یہ الہی پیغامات کو بالکل اسی طرح ہم تک پہنچا دیں جس طرح خدا چاہتا ہے، اور ہمارہ انکی اطاعت کرنا اللہ کی اطاعت شمار ہو. اس سورت میں کوئی ایسا طریقہ نہیں کی کوئی مکمل یقین کر سکے کی یہ انبیاء اور ایمہ ہم کو خدا کی نافرمانی کا حکم نہیں دینگے یا یہ کی خود ذاتی و دنیوی خواہشات کے سبب منحرف نہیں ہونگے.

جیسا کی سورۃ النساء کی آیت نمبر 59 سے واضح ہے کی “اولی الامر” کو وہی اختیارات ہیں مسلمانوں پر جو کی انبیاء کو ہیں، اور “اولی الامر” کی اطاعت کرنا، انبیاء کی اطاعت کے مانند ہے.

اس طرح یہ ایک فطری بات ہے کی اولی الامر بھی بےگناہ(معصوم) اور آزاد ہوں ہر طرح کی غلطی سے، ورنہ انکی اطاعت کرنا، انبیاء کی اطاعت کے مانند نہ ہوتا.

امید ہے یہاں تک بات سمجھ آئی ہوگی، اب آگے بڑھتے ہیں ایک مشہور روایت ہے (حدیث الکسا) جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اللہ نے ارادہ کیا کی اپنے حبیب نبی ص اور اسکے اہل بیت ع کو مکمل پاکیزگی سے نوازے جیسا کی سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 33 میں ارشاد ہوا ہے:

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
۔ اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس (آلودگی) کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔
(سورۃ الاحزاب، آیت 33)

إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُون
اس کا معاملہ تو بس یوں ہے کہ جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ (فوراً) ہو جاتی ہے۔
(سورۃ یاس آیت نمبر 82ُ)

اس طرح ہم کو اس آیت میں ہوے حکم کو سمجھنے اور اسکا پابند ہونے کے لئے، ہمیں پہلے ان آیات کے مضمرات کو سمجھنا چاہیے، اور وہ ان نمایندہ الہی میں ضروری اور بنیادی پاکیزگی اور معصومیت ہے. اس بات پر ایمان لائے بغیر، ہماری محبت، اطاعت اور لگن جو ہم کو ان ہستیوں سے ہے وہ غیر یقینی ہوگی جس پر سوال کھڑے کیے جا سکتے ہیں.

ایسے میں اگر ہم کو ان ہستیوں کی معصومیت میں سو فیصدی یقین نہیں ہے جن کو ہم نے اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیا ہے، تو ہم کس طرح یقین کر سکتے ہیں کی جو راہ ہم نے اختیار کی ہے وہ سہی ہے؟ کس طرح ہم نبی کریم ص کے جانشینون کی تعلیمات کو پھیلا سکتے ہیں اگلی نسلوں تک جب تک کہ ہم خود ہی ان حصتیوں کے بیداغ اور کامل انسان ہونے پر یقین نہ کرتے ہوں؟

یہ اخبار ایک چھوٹی سی کوشش ہے اس راہ میں آگے بڑھنے کی جس سے ہم تهارت اور عصمت کی خصوصیات کو پہچان سکیں جو الہی رہنماؤں میں ہونی چاہیئے.

الله سبحانه وتعالى ہم کو رسول اکرم صلعم کے گھرانے کے معصوم آئمہ ع کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے.

موضوع پر قسط کا سلسلہ جاری ہے..

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s