خلافت فقر محض ہے

​خلیفہ فنائے مطلق کا مظہر 

اللہ تعالٰی نے اپنے عظیم ترین خلیفہ کو مقام رسالت سے سرفراز فرمایا. رسالت فنائے مطلق اور مکمل طور پر اپنے وجود سے گزرنے، اپنی الگ اور امتیازی حیثیت کے مکمل خاتمے، سے عبارت ہے کیونکہ حضرت ختمی مرتبت ص کی رسالت مطلقہ اللَّه کی برزخی خلافت کبری ہے. یہ خلافت عبارت ہے ظہور، تجلی، تکوین اور تشریع کے میدانوں میں خلافت سے، اس خلیفہ کی اپنی الگ حیثیت نہیں ہو سکتی وگرنہ خلافت کا وجود خود مختار بن جائے گا جو کسی مخلوق کے لیے ممکن نہیں. 


خلافت فقر محض ہے

خلافت کی حقیقت خالص فقر و احتیاج سے عبارت ہے جس کی طرف رسول ص نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کے فقر میرے لیے باعث فخر ہے. (الفقر فقری وبہ افتخر) (فقر میرے لیے باعث فخر ہے اور میں اس پر فخر کرتا ہوں) 

کتاب بحار الانوار، ج 69


خلیفہ خود مختار نہیں ہوتا

عزائم میں نبی کی مدد رسانی آپ ص کی قطبیت اور خلافت کی بدولت ہے. یہ مدد اللَّه کے جود و کرم کا خزانہ ہے. پس خزانے اللَّه کے ہیں اور ان میں تصرف اس کا خلیفہ کرتا ہے. اس لیے فرمایا : خزانے اللَّه کے ہیں اور ان میں تصرف خلیفہ فرماتا ہے. خلیفہ اس ہستی کی ملکیت میں جس طرح چاہے تصرف کرتا ہے جس نے اسے خلیفہ بنایا ہے. البتہ یہ خلافت اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک حق تعالی اپنے اس بندے میں ہر قسم کا تصرف نہ کر لے. یہ تصرف اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک یہ بندہ افق فنا کی آخری حد کو چھو نہیں لیتا. پھر جب وہ ذات و صفات اور افعال کے لحاظ سے اپنے وجود سے گزر جاتا ہے تو اب کسی کا تصرف، متصرف(تصرف کرنے والا) اور متصرف فیہ(جس میں تصرف کیا جائے) باقی نہیں رہتا مگر اللَّه کی طرف سے، اللَّه کے لیے اور اللَّه کی راہ میں. پھر جب اللَّه بندے کو اس کی اپنی قلمرو میں واپس لاتا ہے تو اب بندہ اللَّه کے خزائن میں تصرف شروع کرتا ہے. یوں مجازات الہیہ کا وقوع عمل. میں آتا ہے. پس ایک لحاظ سے خزانے اللَّه کے ہیں اور تصرف بندے کا اور دوسرے لحاظ سے خزائن اور تصرف دونوں ہی اللَّه کے ہیں. تیسرے زاویے سے یہ دونوں بندے کے ہیں اور چوتھے زاویے سے تصرف اللَّه کا ہے اور خزائن بندے کے ہیں. 

ماخوذ از انسان کامل 

امام خمینی رح

تحریر الاحقر عادل عباس 

انصار سلیمان کا مظاہرہ قوت

​قرآن مجید بہت سے مواقع پر کرامات و معجزات کو ان کے حاملین کی طرف نسبت دیتا ہے. یہ اس لیے ہے کہ قرآن ان معجز نماؤں کے ارادہ و خواہش کو معجزات کے رونما ہونے کے بارے میں موثر جانتا ہے. قرآن ان. تمام کاموں کو توحید افعالی یا اس بات کے کہ تمام کام خدا وند تعالٰی کی قدرت و قوت سے انجام پاتے ہیں، منافی نہیں جانتا، کیونکہ اگر یہ حضرات اپنے حیرت انگیز اور خارق العادت کاموں میں ذمہ دار اور مستقل ہوتے اور مقام ایجاد میں اللہ تعالٰی کی قدرت سے بے نیاز ہوتے تو اس صورت میں توحید افعالی اور اس امر میں کہ کائنات میں اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں، تضاد پیدا ہو جاتا. لیکن اس کے برعکس اگر ان حضرات کے ایسے تمام افعال ایک ایسی قوت کے زیر اثر انجام پاتے ہیں جو پروردگار عالم نے ان کی بندگی واطاعت کے سایہ میں انہیں عطا فرمائی ہے تو یہ اعتقاد نہ صرف یہ کہ توحید افعالی کے ساتھ کسی طرح تضاد نہیں رکھتا بلکہ توحید افعالی کی اس کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں ہے. ہم اس سلسلے میں اب تصریحات قرآن پیش کرتے ہیں. 
سب جانتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سباہ کو اپنے حضور حاضر ہونے کا حکم دیا. لیکن اس سے ہیشتر کہ وہ آپ کے حضور پہنچتی، حضرت نے اپنے حاضرین مجلس سے فرمایا : 
“اے میرے درباریوں تم میں سے کون (بلقیس) کا تخت میرے سامنے (بلقیس مع اس کے ہمراہیوں کے) مطیعانہ وارد ہونے سے پہلے لاکر پیش کر سکتا ہے؟ ” (نمل، ٣٨)
حاضرین مجلس میں سے ایک نے کہا :
” اس سے پہلے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں (دربار برخواست) ہو میں اسے لے آؤں گا اور میں اس کام کی طاقت رکھتا ہوں اور امین بھی ہوں. ”

(نمل،٣٩)
ایک اور شخص نے جس کا نام مفسرین آصف برخیا بتاتے ہیں، جو حضرت سلیمان علیہ السلام کا وزیر اور ان کا بھانجا تھا، عرض کیا کہ دو چشم زدن میں اسے حاضر کر سکتا ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے :

” ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا یہ کہا کہ اس سے پہلے کہ آپ آنکھ چھپکیں میں اس (تخت) کو آپ کے دربار میں حاضر کرونگا. اچانک حضرت سلیمان علیہ السلام نے تخت کو اپنے سامنے حاضر پایا اور فرمایا کہ یہ فضل و نعمت مجھ پر میرے رب کی طرف سے ہے. ” (نمل، ٤٠)
ان آیات کے مطالب میں ہمیں غور کرنا چاہیے تاکہ  سمجھ سکیں کہ ان خارق العادۃ افعال کا عامل (تخت بلقیس کا حاضر کرنا) کیا ہے؟ کیا خارق العادۃ فعل کا فاعل براہ راست اللہ تعالی ہے اور وہی عالم طبیعی میں اس تحرک کو انجام دیتا ہے جبکہ آصف برخیا اور دوسرے افراد صرف دیکھنے والے ہیں اور ان کاموں میں کوئی معمولی سا دخل  بھی نہیں رکھتے؟ یا اس طرح ہے کہ ان کاموں کے کرنے والے دوسرے لاکھوں کاموں کی  طرح جنھیں عام انسان اللہ تعالٰی کی قدرت سے انجام دیتے ہیں،  خود وہی انسان ہیں، کیا حقیقت یہ تو نہیں کہ یہ حضرات اس قوت کو اللہ تعالٰی کے تقرب کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اور خود اپنے ارادہ سے اس قسم کے خارق العادۃ کے عامل ہوتے ہیں؟ تینوں آیات بظاہر موخر الذکر نظریہ کی تائید کرتی ہیں. کیونکہ 
اولا: حضرت سلیمان علیہ السلام ان لوگوں سے یہ کام کروانا چاہتے ہیں اور ان کو اس کام پر قادر جانتے ہیں. 
ثانیاً : جس شخص نے کہا تھا کہ میں تخت بلقیس کو دربار کے برخواست ہونے سے پہلے لے آؤں گا، وہ اس جملہ میں اپنی توصیف بیان کرتا ہے کہ وانی علیہ لقوی امین یعنی میں اس کام کو کر سکتا ہوں، اس کی قوت رکھتا ہوں اور اپنے بارے میں مطمئن ہوں. اگر اس شخص کا وجود و ارادہ اس کام کے لیے کافی نہ ہو اور اس کی حیثیت تھیئٹر کے اداکار کی مانند ہو تو پھر یہ کہنے کی کہ میں اس کام کو کر سکتا ہوں اور امین ہوں، کوئی وجہ نظر نہیں آتی. 
ثالثا: دوسرے شخص نے کہا کہ میں اسے بہت تھوڑی دیر میں (پلک جھپکتے ہی) لے آؤں گا بلکہ اس خارق العادۃ کام کو اپنی طرف نسبت دے کر کہتا ہے : اتیک لے آتا ہوں. ”

اگر ضروری ہوتا کہ قرآن مجید اس حقیقت کی وضاحت کرے کہ اولیاء کے نفوس پر ان کے ارادے و خواہشات، معجزات و کرامات اور خارق العادۃ افعال پیش کرنے کے سلسلے میں دیگر شخصیات اثر رکھتی ہیں تو اس سے زیادہ واضح کون سے الفاظ ہو سکتے ہیں تاکہ اس زمانہ کے شاکی لوگ ان کو تسلیم کر لیں اور تاویلات میں نہ پڑتے پھریں. 
رابعاً:  خداوند عالم دوسرے شخص کی حیرت انگیز توانائی کا سبب اس کی علم کتاب سے واقفیت کو قرار دیتا ہے. یہ وہ علم و حکمت ہے جو عام آدمی کے دائرہ اختیار سے قطعی باہر ہے. یہ علم ان علوم سے ہے جو بعض بندگان خدا کے لیے ہوتے ہیں. ان علوم سے واقفیت اس قرب الہی کی مرہون منت ہوتی ہے جو اس قسم کے بزرگ حضرات کو اللہ تعالٰی سے حاصل ہوتا ہے. جیسا کہ فرماتا ہے :

قال الذی عندہ علم من الکتاب 


تحریر ال احقر عادل عباس

نقل از قران کا دائمی منشور

Worship of Freemen in the eyes of Imam Khomeini 

إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنْ الْمُتَّقِينَ.

Verily God accepts only from the God-fearing. (5:27)

One of the major factor in the rightness and perfection of actions which, in fact, is tantamount to their efficient force (in the same way as the awe and taqwa acquired from them is equivalent to the condition of their effectiveness and which, in fact, purify the receptor and remove the impediments). It is sincere intention and pure purpose on which depend the perfection and defectiveness of ‘ibadat (worships) and their validity and invalidity.
As much as the ‘ibadat are free from association with non-God and from adulteration of intention, to the same extent they are sincere and perfect. And nothing is as important in ‘ibadat as intention and its purity, for the relationship of intention to ‘ibadah is like that of the soul to the body and the spirit to the corporeal frame.
In the same way as their physical form originates in the physical aspect of the self and its body, intention and their spirit originate from the self’s inward aspect and the heart. No worship is acceptable to God Almighty without sincere intention and unless it is free from the outward mulki riya’ (a kind of riya’ which the fuqaha’ (R) have mentioned) and shirk, which invalidate and nullify the outward parts (of an ibadah).
And unless it is free from inward shirk, in whose presence although an ‘ibadah may be correct from the exoteric aspect of the Shari’ah and fiqhi ordinances, it is not valid and acceptable to God Almighty from the esoteric aspect and from the viewpoint of the reality and secrets of worship. Hence there is no necessary relation between the (legal) validity of ‘ibadah and its acceptability, a point which has often been mentioned in the traditions.
An exhaustive definition of ‘shirk in ‘ibadah’ that encompasses all its levels is the inclusion of the good pleasure and satisfaction of anyone other than God, whether it is one’s own self or someone else.’ If it is for someone else’s satisfaction and for other people, it is outward shirk and fiqhi riya’. If it is for one’s own satisfaction (rida), it is hidden and inward shirk; this also invalidates the ‘ibadah in view of the urafa and makes it unacceptable to God. Examples of it are offering the nightly prayer for increase in one’s livelihood, giving sadaqah for safety from afflictions, or giving zakat for increase in one’s wealth; that is, when one does these things for God Almighty in order to seek these things from His grace.
Although those ‘ibadat are valid, and one who performs them is considered to have performed his duty and fulfilled the requirements of the Shari’ah, they do not amount to the worship of God Almighty, nor are they characterized with sincerity of intention and purity of purpose. Rather, this kind of ‘ibadat are aimed to achieve mundane purposes and to seek the objects of carnal, mundane desires. Hence, the acts of such a person are not rightful.
Similarly, if ‘ibadah is for the sake of the fear of hell and yearning for paradise, it is not sincerely for God and is devoid of sincere intention. Rather, it may be said that such acts of worship are purely for the sake of Satan and the carnal self. The good pleasure of God does not enter the intentions of a person performing such a kind of ibadah in order to be considered even shirk.
Rather he has worshipped solely the great idol, the mother of all idols, the idol of one’s carnal desire. However, God Almighty has accepted this kind of ibadah from us out of His expansive mercy and on account of our weakness, by allowing a degree of leniency; that is, He has bestowed upon it certain effects and attached certain favors to it so that if man should fulfill the outward conditions of its acceptance, and perform it with the presence of the heart, all those effects will follow and all the related promises of reward shall be carried out.
Such is the condition of the ‘ibadat of the slaves and mercenaries. But as to the ‘ibadah of free men (ahrar), performed for the love of God Almighty and to seek the attention given by that Sacred Essence to Its worshippers, the motive of fear of hell and yearning for paradise being absent in it, it is the first station of the awliya’ and ahrar.

Imam Khomeini’s advice about Backbiting 

​Imam Khomeini’s guidance to those who Backbite their Fellow brothers in faith 
My dear, be friendly to the servants of God who enjoy His mercy and bounty and who have been adorned with the robes of Islam and iman, and cultivate a heart-felt affection for them. Beware lest you feel enmity towards the beloved of God, for God Almighty is the enemy of the enemies of His beloved one and He will throw you out of the gardens of His mercy. The elect of God are hidden amongst His servants and who knows if this enmity on your part and your violation of the honor of this man of faith (mu’min) and your divulging of his defects will not be considered an offence against Divine honor?
The mu’minun are the awliya’ (friends) of God. Their friendship is the friendship of God; their enmity is the enmity of God. Beware of the wrath of God and the enmity of the intercessors on the Day of Judgment:
وَيْلٌ لِمَنْ شُفَعَاؤُهُ خُصَمَاؤُهُ.

Woe to him whose intercessors [i.e. those who were supposed to intercede in his favor] are his enemies.

Alam e Mubarak (Azadari)

Alam e Mubarak

Ye alam e mubarak jo hamari Qaum banati hai, ye sarkaar e wafa Hazrat Abul Fazlil Abbas ke alam ki shabih hai jo haqeeqat mein Janab e Rasool e Khuda sallallahu alaihi wa alehi wasallam ke us alam ki muqaddas shabih hai jis ke alamdaar janab e Haider e karrar (as) the.

Algharz! Ye alam Abbas bhi hai aur Alam e Hussain bhi, Alam e Hasan bhi hai, aur Alam e Ali bhi ye Alam e Ja’far e tayyar bhi hai aur Alam e Ahmad e mukhtaar bhi. Har daur me is Alam k alamdaar badalte rahe hai’n. Haqeeqat mein Alam Ek hi raha hai har Qaum ka Alam hota hai aur har jamaat ka(chahe wo mazhabi jama’at ho ya siyasi) jis se us ki pehchan wazeh hoti hai bilkul usi tarah
“Abbas ka Alam : Qaumi nishaan hamara ”
Jis se sarkaar e wafaa Abul fazlil Abbas aur unke alam ki yaad taaza karna aur is hasrat ki takmeel karna maqsood hoti hai ki agar ham maidane karbala me hote to ye alam zameen-bos na hota. Iska jawaz(jaez hona) kisi daleel ka mohtaaj nahi hai kyunki iske jawaaz me kisi mazhab wa maslak ke mazhabi qawaed ki roo se qat’an kisi Qism ka koi ishkaal nahi hai.

Ibadat aur deeni muamlaat ke alawa kisi bhi cheez ka jawaaz mohtaaj e daleel nahi hota, han albatta kisi cheez ki hurmat mohtaj e daleel hoti hai ya deegar ahkaam(wujoob, ehtiyaat, aur karahat) daleel wa burhaan k mohtaaj hote hai’n.

Irshad e Masoom (as) hai:
Har cheez jaez hai jab tak us ke mutalliq koi (sharai) mumane’at(mana hona) waarid na ho.

Beshak hamari Qaum chaahe to 100 100 feet nahi hazaar hazaar feet k oonche alam banaen taake :
Ooncha rahe apna alam… Badhte rahe yunhi qadam…. Hayya ala khairil amal
Aur mashriq wa maghrib tak iske pharaire lehraye aur agar koi nadaan aitraz karne wali zubaan aitraz kare to uske jawab mein
Gufta e ahqar Ek baar padh ke use suna ke yun

Magar is silsile me sirf ek baat qabile islah hai aur wo hai alam ko sajda karna.

Kitab: Islah ur rusoom asli Islam aur rasmi Islam
Musannif : Ayatullah Muhammad Hussain Najafi

Pesh kash : Aadil Abbas

As’haabe Hussain, Part 4

As’haabe Hussain, Part 4

BURAIR BIN KHUZAIR HAMDAANI

Janab Burair bin Khuzair hamdani Al-Mashriqi khandane hamdaan k qabile bani mashriq k ashraaf wa akabir me se hai’n. Hazrat Ameerul momineen aur Janab Hasnain alaihimussalam ke khaas as’haab me se the. Ulema ne inke halaat me likha hai ki “ye sin raseeda buzurg tabai buhat bade shujaa, ibadat guzaar, qaari e Qur’an(jin ko log Sayyid ul Qura kehte the) Ameerul momineen k sahabi aur qabila e hamdaan k ashraaf me se the” unhone “kitab alqazaya walahkam” k naam se ek kitab bhi likhi thi jis me Hazrat Ameerul momineen aur Janab Imam Hassan e Mujtaba alaihimussalam se riwayaat naql ki hai’n. Ye kitab usool e mo’tbara se samjhi jati hai.
Jab inko Hazrat Imam Hussain k madeene se Iraq ki taraf safar karne ki khabar mili to ye Buzurgwar ‘zakhirat ud darain, safha 260 aur farsan ul haija, jild 1, safha 40’ ke bayan k mutabiq banafse nafees makka pahunch kar aanjanab k sath ho gaye, aur dosre tareeq likhne walo k mutabiq raaste me kisi manzil par ja mile. Zahiri taur par yahi baat zyada sahi k qareeb lagta hai. Raaste me Sayyid us Shuhada k sath Hurr ki mulaqat k waqt Jab Imam ne dil bardashta ho kar khutba padha aur As’haabe Imam ne apni jaan sipari aur khidmat guzari ka izhar kiya to un mukhlis logo mein Janab Burair pesh pesh nazar aate hain. Isi tarah roze ashoora unke abdur rahman k sath mazaq karne aur unke tokne par unke jawab dene ki meri Qaum wa qabile ke log jante hai’n ki mai mazaq ka aadi nahi hun. Lekin aaj mustaqbil ki taabnaki wa darakhshandgi ke idhar ye log ham par talwaro se hamla karenge, udhar ham jannat ul firdaus me hoor ul ain ki refaqat me pahunch jaenge. Mujhe is mizaaj par amaada kar rahi hai. Is se unke darja e emaan wa eqaan aur jazba e shauqe shahadat par badi tez raushni padti hai. Ye unka shauq e shahadat hi tha ki jab pehle pehel fauje mukhalif se saalim wa yasaar maidane karzaar me aaye to idhar se fauran Janab Burair aur Janab Habib muqable k liye khade ho gaye magar Imam ne unko rok diya, jaisa ki pehle iska zikr kiya ja chuka hai.

Baharhaal jang e maghlooba k baad Janab Burair ye rajz padhte hue maidane kaarzaar me nikle

انا بریر و ابی خضیر
لیث یروع الاسد عند الزیر
یعرف فینا الخیر اھل الخیر
اضربکم ولا اری من ضیر
کذلک فعل الخیر من بریر
وکل خیر فلہ بریر
Iske baad tabad tod hamle shuru kiye, mukhalifeen ko qatl bhi karte jate the, aur sath sath ye bhi kehte jate the : “mere qareeb aao- ae momino ko qatl karne walo! Mere nazdeek aao! Aur ahle badr ki awlad ko qatl karne walo! Mere paas aao! Rasool e khuda ki awlaad wa zurriyat ko qatl karne walo! Inhi hamlo me alawa majrooheen k teen naariyo ko finnaar wa saqar kiya. Isi isna mein Fauje Yazeed se Yazeed bin Ma’qal nikla jo ke bani umairah bin rabia ka fard aur bani saleema bin abdulqais ka haleef tha. Idhar Hussaini jamaat se Janab Burair aage badhe, Yazeed ne kaha : Ae Burair! Khuda ne tumhare sath kaisa sulook kiya hai? Janab Burair ne jawab diya : “khuda ne mere sath buhat achcha sulook kiya hai, hala’nki tere sath bura sulook kiya hai.” Yazeed ne kaha : Tum jhoot kehte ho halan’ki tum is se pehle jhoot nahi bolte the! Phir kaha : Burair! Kya wo waqt bhi yaad hai ki jab ham tum bani lauzan k muhalle se guzar rahe the aur tum kehte the “ke Usman bin affan apne nafs par zulm karne wale(gunahgar) aur mawiya bin abi sufyan khud gumrah aur dosro ko gumrah karne wala tha. Aur Imam bar haq sirf Ali ibne Abi Talib hai’n. Janab Burair ne kaha : han mujhe achchi tarah se yaad hai aur ab bhai gawahi deta hun ki mera wahi pehle jaisa Aqeeda hai. Yazeed ne kaha : mai gawahi deta hun ki tum gumraho me se ho. Burair ne farmaya : agar khayal hai to aao mai is silsile me tumse mubahila karta hun. Aao dono bargahe qudrat me dua kare ki : wo, ham me se jo jhoota hai us par lanat kare aur sachche k hatho jhoote ko qatl kare, isliye dono ne hath buland karke dua ki, uske baad muqable k liye aage badhe. Yazeed bin Maqal ne Burair par waar kiya, talwar uchatti hui lagi aur Burair ko koi khaas chot na aayi, uske baad Janab e Burair ne ek aisa bharphoor waar kiya ke talwaar kaat’ti hui Yazeed k dimagh tak pahunch gayi, Yazeed fauran zameen par gir pada, is haalat me bhi Janab Burair ki talwar uske sar me gadi hui thi. Afeef bin Zuhair ka bayan hai ki goya mai dekh raha hun ki Burair uske sar se talwar ko harkat dekar kheench rahe hai’n. Is isna me razi bin manqaz abadi ne Janab Burair par hamla kar diya, dono sath gutham gutha ho gaye aur kuch dair tak kushti ladte rahe. Bilakhir Burair ne usko pachhadh diya aur uske seene pe charhh gaye, razi ne madad k liye apne sathiyo ko pukarte hue kaha “shamsheer zann difaa karne wale kaha hai’n? Isliye kaab bin Jabir bin amro izdi aage badha, Afeef bin Zuhair kehta hai maine kaab ko hamle se baaz rakhne k liye kaha. Kaab! Ye wahi Burair bin Khuzair hai jo Masjid e koofa me tumhe Qur’an padhte the. Magar usne koi tawajjoh na di aur naize se janab Burair par hamla karke naiza unki pusht me gaad diya. Janab Burair ne naize ki takleef mehsoos ki to razi bin manqaz ko khoob neeche raunda. Aur uski naak ka kinara kaat diya lekin naiza kyunki buhat zor se laga tha, Burair neeche gire phir kaab ne talwar ke kayi waar karke unko Shaheed kar diya. Afeef kehta hai goya ki mai ab aankho se dekh raha hun k ibne manqaz abdi jise Burair ne pachhadha tha is haal me utha ke kapdo se gard o ghubar jhaadh raha tha. Aur kaab izdi se keh raha tha : Ae izdi! Tumne mujh par wo ehsan kiya hai jise mai kabhi faramosh nahi kar sakunga. Jab kaab wapas palat kar koofa gaya to uski zauja ya behen Noora ne us se kaha : toone farzande Fatima k khilaf yoorish ki aur Sayyid ul Qura ko qatl karke Ek gunahe azeem ka irtekab kiya hai isliye mai tumse kabhi bat nahi karungi.

Kitab : Saadat ud darain fi Maqtal Al Husain
Ayatollah Muhammad Hussain Najafi
.
.
.
Mohtaj e dua Aadil Abbas

As’haabe Hussain, Part 3

As’haabe Husain, Part 3

Muslim bin Awsaja asadi

Janab ka naam Muslim bin awsaja bin sa’laba bin rudan bin asad bin khazeema al-asadi us saadi aur kunniyat abul hajl hai. Ye buzurgwar saaem-un-nahaar(din me roza rakhne wala) shab zindadaar(raat jaag kar ibadat karne wala) , qaari-e-quran, bade bahadur wa mard-e-maidan the. Aur Hazrat Ameerul momineen ke khaas as’haab me se the, unke hamraah teeno ladaiyo(jamal, siffeen, aur neherwaan) me shareek reh kar kirdaare shuja’at de chuke the. Ibne Saad ne tabqaat me inhe sahaba e Rasool(saw) me shumaar kiya hai. Aur shaa’bi ne inse riwayat hadees bhi ki hai. Aaqai maamqani ne apne rejaal me inke baare me likha hai. Inki jalalat-e-qadr, adalat, quwwate emaan aur shiddat-wara'(lehw o laab se sakhti se door rehne wala) wa taqwa tehreer wa taqreer me sama sakne se aage hai Ye wahi buzurgwar hai’n ke jab Shabe Ashoora, Sayyid us shuhada ne apne tareeqi khutbe mein apne as’haab ko chale jane ki ijazat de di thi to inhone arz kiya tha : “bhala ye mumkin hai ki ham aapko tanha chhorh kar chale jaen, agar aisa kare to qayamat k din baargahe ilahi me aapke jadde naamdaar ko kya jawab denge? Ba khuda agar mujhe yaqeen hota ke qaume jafakaar mujhe qatl karegi, phir zinda ho jaunga, phir mujhe qatl kar degi aur laash ko jalakar uski raakh hawa me udaa degi, isi tarah 70 baar bhi mujhse ye sulook kiya jaega, tab bhi aap ki taaeed wa nusrat se dastbardari ikhtiyar na karunga. Hala’nki mujhe yaqeen hai ki sirf ek baar hi Shaheed hona hai.

Is se pehle jab Hazrat Muslim koofa mein tashreef le gaye the to yahi Muslim unke bharose wale khaas fard the aur logo se unke liye bai’at lete the, baharhaal roze ashoora jab doosri baar jang maghlooba waqe hui(jiski taraf is se pehle ishara kiya gaya tha) aur amro bin alhajjaj ne sipahe hussain k maimana par aur Shimr bin zil-jawshan ne maisara par hamla kar diya aur is hamle ki wajah ye thi ki dast ba dast(aamne saamne, Ek bar Ek) ladai me dushman ka buhat nuqsan ho raha tha. Isliye amro bin alhajjaj ne apni fauj ko pukar kar kaha, Ae ahmaqo! Kuch Pata bhi hai ki kis se jang kar rahe ho? Ye khaas shahsawaar aur jaan par khelne wale log hai’n. Akela koi jang k liye na nikle, inki ta’daad hi kya hai, agar tum sab mil kar inko paththar bhi maaro to ye sab khatm ho sakte hain. Ibne Saad ne bhi is tajweez ko pasand kiya, aur Amro ne aage badh kar apni fauj ka hawsla buland karne k liye kaha “ae koofa walo! Apni ita’at wa jama’at ko laazmi pakde raho, aur jo deen se nikal gaye hain unke qatl k jawaaz me shakk na karo(maazallah). Imam Hussain ne jawab me farmaya : Ae amro bin alhajjaj! tu logo ko mere qatl par aamada karta hai. Kya tumhara khayal hai ki ham deen se khaarij ho gaye aur tum us par sabit qadam ho? Jab tumhari roohe qabz hongi aur maujooda kirdaar par tumhari maut waqe hogi to phir tumhe pata chalega ki deen se kaun khaarij hua hai aur aatishe jehennum me jalne ka sazawar kaun hai? “. Us waqt janab e Muslim Husaini lashkar k maisara me the jis ke salaar Zuhair bin Qain the. janab Muslim agar se sin-raseeda wa zaeef ul umr the magar quwwate emaani aur jazba e shahadat se sarshaar ho kar biphre hue shair ki tarah ghorhe ko airh lagakar ye rajz padhte hue maidane kaarzaar me aa gaye:
ان تسئلوا عنی فانی ذولبد
من فرع قوم ذری بنی اسد
Agar Tum mera naam wa nasab poochhte ho to mai shair beshai Shuja’at hun aur bani asad ke ashraaf se talluq rakhta hun
فمن بغانی حائد عن الرشد
وکافر بدین جبار الصمد
Jo ladne k liye mera talabgar hai wo tareeq rushd wa hidayat se bargashta hai aur jabbar wa samad k deen ka munkir hai.

Ye keh kar barqe-khatif(tez bijli) aur tez aandhi ki tarah sipahe-zalim par toot pade. Aur harb wa zarb ka tano garam kar diya. Jo saamne aaya kisi ko naize se aur kisi ko talwaar se waasile jehennum kiya. Isliye ibne saad ka ek lashkari muqable k liye nikla. Janab e Muslim ne uske dahine pehlu me naize ka ek aisa sakht waar kiya ke baaye’n pehlu se bahar nikal aaya aur wo wahi dhair ho gaya phir doosra nikla uska bhi yahi anjaam hua. Isi tarah kasht wa khoon karte hue 50 sawaro ko jehennum bheja.
Baharhaal ab As’haabe Hussain ne is dileri wa pamardi k sath mukhalif k hamle ka muqabla kiya ke dushman k daant khatte ho gaye aur use wapas hona pada magar is dauran me Janab e Muslim buri tarah zakhmi ho gaye the unko Shaheed karne me Muslim bin Abdullah Zabai wa abdur rehmaan bin abi khashkara aljabali sath sath the. In dono ko Janab e mukhtar ne waasile jehennum kiya tha..
Jab ghubare jang baitha to dekha gaya k Janab e Muslim bin awsaja khaak wa khoon me latpat pade hai’n. Janab e Sayyid us shuhada(as) aqaab ki tarah jhapat kar Muslim k baaleene sar tashreef le gaye. Us waqt Janab Habib bin mazahir bhi aapke sath the. Imam(as) ne dekha k abhi kuch jaan baaqi hai. Farmaya : Ae Muslim! Khuda tum par rehmat nazil kare. Phir ye aayat tilawat farmai : “faminhum man qadaa nahbahoo wa minhum mai yantaziru wa maa baddaloo tabdeelaa”
Momino mein (aisay) log bhi hain jinhon ney jo ehad Allah Taalaa say kiya tha unhen sacha ker dikhaya baaz ney to apna ehad poora ker diya aur baaz ( moqay kay) muntazir hain aur unhon ney koi tabdeeli nahi ki. (Surah Ahzab ayat 23)
Phir Janab Habib ne qareeb jakar kaha : Muslim! Tumhari maut mujh par shaaq hai tumhe jannat ki basharat ho.. Janab e Muslim ne kamzor awaaz k sath jawab me kaha : khuda tumhe bhi khair wa khoobi ki basharat de. Janab e Habib ne kaha : agar mujhe is baat ka yaqeen na hota ki mai bhi anqareeb aapke peechhe aaraha hun to zuroor tum se kehta ki jo wasiat karna hai karo. Janab e Muslim ne kaha : mai is buzurgwar k mutalliq wasiat karta hun ke in par apni jaan nisaar karna. Janab Habib ne kaha : Rabbe kaaba ki qasam! Mai zuroor aisa hi karunga. Isi isna me Janab e Muslim bina Awsaja ki rooh qafas e ansuri se parwaaz kar gayi. Inna lillahi wa Inna ilaihe rajeun

Janab e Muslim ki kaneez ne ye jaangdaaz manzar dekh kar nudba karte kehna shuru kiya : haaye! Mere sardaar! Kaneez ki awaaz sun kar amro bin alhajjaj ke sipahiyo ne masarrat wa shaadmani ke lehje mein kehna shuru kiya. Hamne Muslim ko qatl kar diya. Shabas ibne rab’ee ne kaha : tumhari maaen tumhare matam me baithe. Muslim bin awsaja jaise buzurgwar ke qatl par tum khushi ka izhaar karte ho? Maine islami jango me unke bade bade umdah kaarnaame dekhe hai’n. Fatah aazarbaijaan wale din maine unko dekha k musalmano ki saff bandi bhi mukammal nahi hui thi ki Muslim ne 6 mushrik qatl kar daale the.

Kitab : Saadat ud darain fi Maqtal Al Husain
Ayatollah Muhammad Hussain Najafi (hfz)
.

.
Mohtaj e dua Aadil Abbas